مشال خان کیس: ایک مجرم کو سزائے موت 5 کو 25 سال قید

ویب ڈیسک – آج عدالت نے مشال خان قتل کیس کے ملزمان کا فیصلہ سناتے ہوئے 1 ملزم کو سزائے موت اور 5 ملزمان کو 25، 25 سال قید کی سزا سنائی. انسداد دہشت گردی عدالت کے جج فضل خان نے فیصلہ پڑھ کر سنایا. مشال خان جو کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کا طالب علم تھا کو سال 2017 میں اپریل کے مہینے میں ساتھی طلبہ نے ڈنڈے مار مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا. ساتھی طلبہ نے مشال پر توہینِ رسالت کا الزام لگایا تھا.


مشال خان قتل کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان نے واقع کا از خود نوٹس لیتے ہوئے جوائنٹ انویسٹی گیشن کمیٹی قائم کر کے واقعہ کی تحقیق اور ملزمان کی نشاندہی کرنے کا حکم صادر کیا. بعد ازاں جے آئی ٹی کی رپورٹ میں مشال خان کو بے قصورقرار دیا گیا اور واقعہ کے ملزمان کی نشاندہی کی گئی.
جے آئی ٹی کی رپورٹ میں یہ بھی واضح طور پر لکھا گیا کہ اس سارے واقعہ میں عبدالولی خان یونیورسٹی کی انتظامیہ بھی شامل تھی اور ملزمان کی سرپرستی بھی انتظامیہ کے لوگ کر رہے تھے.
یاد رہے کہ مشال خان کے بے رحمانہ قتل کے بعد پوری دنیا میں پاکستان کی شدید بدنامی ہوئی تھی.
مشال خان عبدالولی خان یونیورسٹی کے ماس کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کا طالب علم تھا جسے 13 اپریل 2017 کو یونیورسٹی میں ایک ہجوم نے ڈنڈے مار مار کر قتل کر دیا تھا.