فنانشل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ ، پاکستان کو کن مشکلات کا سامنا ہو گا

پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس واچ لسٹ کی گرے کیٹیگری میں شامل کر لیا گیا، عملدرآمد جون سے ہوگا۔ چین اور سعودی عرب نے بھی کڑے وقت میں ساتھ چھوڑ دیا، سچا اور کھر دوست ترکی  ہی نکلا۔

تفصیلات کے مطابق، پیرس میں فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ کیٹیگری میں شامل کر کے دہشت گردی کے خلاف دی جانے والی قربانیوں کو نظراندز کر دیا گیا۔ گرے لسٹ کیٹیگری پر عملدرآمد جون میں کیا جائے گا جس کے مطابق پاکستان کو ان ملکوں کی فہرست میں شامل کیا جائے گا جن ملکوں پر دہشت گردوں کی معاونت کا الزام لگایا جاتا ہے۔ ترکی کے علاوہ کسی ملک نے بھی پاکستان کا ساتھ نہیں دیا ، بہترین دوست اور ہر مشکل کے ساتھی چین نے بھی مدد نہیں کی ۔ سعودی عرب اس کانفرنس میں آبزرورز میں شامل تھا لیکن اس نے بھی پاکستان کو سپورٹ نہیں کیا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے گرے لسٹ میں نام شامل ہونے کے بعد معاشی طور پر پاکستان کیلئے مشکلات پیدا ہو جائیں گی ، ملک کی کریڈٹ ریٹنگ اور مالی ساکھ کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ ایشیا پیسیفک گروپ میں بھی پاکستان کی شمولیت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ ‘پاکستان کو ابھی تک ایف اے ٹی ایف اور انٹرنیشنل کوآپریشن ریویو گروپ (آئی سی آر جی) کی رپورٹس کا انتظار ہے’۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکا، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔

تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

Source

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *