انٹرنیٹ کی ایجاد بھارت میں، پہلی بار استعمال 5000 سال قبل ‘مہا بھارت’ میں ہوا، بھارتی منسٹر کا دعوی

ویب ڈیسک – نریندرا مودی کی حکومت میں ایک اور مزحکہ خیز دعوی کر دیا گیا ہے۔ بھارت کی ریاست کے وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کر دیا ہے کہ انٹرنیٹ دنیا میں سب سے پہلے بھارت میں 5000 سال قبل ایجاد کیا گیا جب سٹیلائیٹ کے ذریعے ہندوئوں کے مقدس جنگ ‘مہا بھارت’ کو ہندو دیوتائوں نے لائیو دیکھا۔

ٹیکنالوجی کی جنگ میں نیا تیر شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیو نے چلایا ہے جن کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے اور ہزاروں سال پہلے براہ راست نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے کمپیوٹروں کے استعمال پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہا بھارت کی جنگ کے دوران سنجے نے دھرت راشٹر کو جنگ کا آنکھوں دیکھا احوال سنایا تھا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت انٹرنیٹ بھی تھا اور سیٹلائٹ بھی۔

ہندوؤں کا خیال ہے کہ مہا بھارت کی جنگ پانچ ہزار سال پہلے ہوئی تھی۔

انڈیا میں جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے اس طرح کے دعووں میں اضافہ ہوا ہے۔

خود وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ برس پہلے سائنس دانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قدیم ہندوستان نے پلاسٹک سرجری پر مہارت حاصل کر لی تھی اس حد تک کہ وہ ایک انسان کے جسم پر ہاتھی کا سر نصب کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ (ہندوؤں کے بھگوان گنیش کا جسم انسانوں کا ہے اور سر ہاتھی کا تھا)

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کچھ برس پہلے سائنس دانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قدیم ہندوستان نے پلاسٹک سرجری پر مہارت حاصل کر لی تھی اس حد تک کہ وہ ایک انسان کے جسم پر ہاتھی کا سر نصب کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ (ہندوؤں کے بھگوان گنیش کا جسم انسانوں کا ہے اور سر ہاتھی کا تھا)

 

اس وقت بھی وزیر اعظم کے بیان پر شدید تنقید کی گئی تھی اور بہت سے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ انھیں سائنس اور مذہبی عقائد میں فرق کرنا چاہیے۔

اس سے پہلے یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ہوائی جہاز بھی انڈیا میں ہی ایجاد کیے گئے تھے۔

اس پس منظر میں ماہر اقتصادیات کوشک باسو نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ قوم پرستی اور مذہبی قدامت پسندی میں حد سے گزر جانے والوں کا مسئلہ یہ ہے کہ فلسفہ، ریاضی، سائنس اور ادب کے مطالعے میں وقت صرف کرنے کی بجائے وہ یہ ثابت کرنے میں اپنا وقت گزارتے ہیں کہ انڈیا میں پانچ ہزار سال پہلے لوگ سائنس اور فلسفہ پڑھتے تھے۔

ٹوئٹر اور فیس بک کی ایجاد کے بارے میں تو فی الحال کوئی دعویٰ نہیں کیا گیا لیکن سوشل میڈیا کی ایجاد بھلے ہی مغربی دنیا میں ہوئی ہو لیکن لوگ اپنی رائے ظاہر کرنے سے کہاں باز آتے ہیں۔

سینیئر وکیل سنجے ہیگڑنے نے ٹوئٹر پر لکھا: ’تریپورہ، مبارک ہو آپ نے مانک سرکار کے مقابلے میں بپلب داس کی بصارت کو ترجیج دی۔ (مانک سرکار لمبے عرصے سے تریپورہ کے وزیر اعلیٰ تھے لیکن مارچ میں ان کی پارٹی الیکشن ہار گئی تھی۔)

امریکہ کی رٹگرز یونیورسٹی میں جنوبی ایشیا کی تاریخ کی نائب پروفیسر اوڈرے ٹروشکے نے ٹوئٹر پر یک بعد دیگرے پیغامات میں کہا ہے کہ مہا بھارت کے کردار ٹیکنالوجی کا زیادہ بہتر استعمال کر سکتے تھے اور (بھگوان) کرشن بھگوت گیتا کی فیس بک پر لائیو سٹریمنگ کر سکتے تھے۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن نے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے دعووں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں نوبیل انعام دیا جانا چاہیے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ وہ ایجاد کرنے والوں کو انعام دلوانا چاہتے ہیں یا دعویٰ کرنے والوں کو۔

بپلب دیو کی حمایت میں بہت سے لوگوں نے اپنی رائے ظاہر کی ہے۔

کھیم چند شرما لکھتے ہیں: ’ہم وزیر اعلیٰ کی بھر پور حمایت کرتے ہیں۔ ویدک سائنس کی طاقت کا سب اعتراف کرتے ہیں، ہالی وڈ کی مشہور فلم ’اوتار‘ بنانے والوں نے بھی ہندوؤں کی قدیم کتابوں سے تحریک حاصل کی تھی بس ہم بھول گئے ہیں اس لیے دوبارہ تحقیق کی ضرورت ہے۔‘

جب یہ تحقیق مکمل ہو جائے تو یہ بھی معلوم کرنا چاہیے کہ انٹرنیٹ ایجاد چاہے کسی کی بھی ہو، اس کی رفتار اب بھی اتنی سست کیوں ہے؟

Source بشکریہ BBCUrdu.com

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *