
شورشرابہ، ہنگامہ، واک آئوٹ، حکومت نے 5900 ارب کا آخری بجٹ پیش کر دیا
مانیٹرنگ ڈیسک – شور شرابے، ہنگامے اور اپوزیشن کے واک آئوٹ کے بعد مسلم لیگ کی حکومت نے اپنا چھٹا اور آخری بجٹ پیش کر دیا۔ بجٹ نو منتخب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے تقریباً 5900 ارب کا وفاقی پیش کیا۔
بجٹ سیشن کے دوران ایوان شدید ہنگامہ آرائی کا شکار رہا اور مچھلی منڈی کا منظر پیش کرتا رہا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ مسلم لیگ کی حکومت آنے والی حکومت کا حق مار رہی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ فکر نہ کریں اگلی حکومت بھی مسلم لیگ ن کی ہو گی۔
مفتاح اسماعیل بجٹ تقریر میں کہا کہ بجٹ پیش کئے بنا کوئی حکومت نہیں چل سکتی، یہ بجٹ پیش کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بجٹ میں پینشن کم از کم پینشن 10 ہزار، سرکاری ملازموں کے ہائوس رینٹ میں 50 فیصد اضافہ، کر دیا گیا۔
وزیرِ خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مالی سال 19-2018ء میں تنخوا دار طبقے لئے بڑا ریلیف دیتے ہوئے سالانہ 12 لاکھ کمانے والے کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال مجموعی ترقی کی شرح میں 5.4 فیصد رہی، پانچ سال میں 33 ہزار 285 کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں۔ ترسیلات زر 20 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی اور سٹیٹ بینک کے ذخائر 11 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔
مفتاح اسماعیل نے تقریر میں کہا کہ زرعی قرضے 800 ارب روپے تک پہنچ جائیں گے جبکہ نجی قرضے 441 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ برآمدات میں 13 فیصد جبکہ درآمدات میں 17 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال شرح نمو 5.8 فیصد رہی جو گزشتہ 13 سال میں بلند ترین سطح ہے۔
آئندہ بجٹ میں جائیداد کی خرید وفروخت پر ایف بی آر کے مقرر کردہ نرخ ختم کرنے اور جائیداد کے سودوں کے اندراج میں فریقین کے مابین باہمی معاہدے میں طے کردہ قیمت ہی تصور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معیشت کا حجم 34 ہزار ارب سے بڑھ چکا ہے۔ حالیہ سال زرعی شعبے میں ترقی کی شرح 3.58 فیصد رہی۔ کسانوں کو مختلف قسم کے مراعات دی گئیں جس سے زراعت میں ترقی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح 3 اعشاریہ 8 فیصد رہی جبکہ مالیاتی خسارہ 5 اعشاریہ 5 فیصد تک محدود رہے گا۔ 5 ارب روپے سے ایگریکلچر فنڈ قائم کر دیا گیا ہے۔
بجٹ تقریر میں کہا گیا کہ 2 سے 4 لاکھ روپے ماہانہ آمدن والوں پر 10 فیصد جبکہ 4 لاکھ سے زائد ماہانہ آمدن پر 15 فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا۔ سالانہ 24 لاکھ سے اور زائد 48 لاکھ سے کم کمانے والے پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز، سالانہ 24 لاکھ سے زائد 48 لاکھ سے کم تنخواہ والوں کو ٹیکس کے علاوہ 7 ہزار روپے بھی ادا کرنے ہونگے سالانہ 48 لاکھ سے زائد کمانے والوں پر 15 فیص ٹیکس لاگو ہو گا۔
وزیرِ خزانہ نے کہا کہ مالیاتی خسارہ 8.2 فیصد سے کم کر کے 5.5 فیصد پر لے آئے۔ 5 سال میں ٹیکس وصولیوں میں 2 ہزار ارب روپے کا اضافہ کیا۔ معشیت کا حجم 34 ہزار ارب سے بڑھ چکا ہے۔ آج ہم دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت ہیں۔ گزشتہ 9 ماہ میں برآمدات میں 13 فیصد جبکہ گزشتہ ماہ برآمدات میں 24 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی درآمدات میں 17 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سال کے آخر تک ترسیلات زر 20 ارب ڈالرکا ریکارڈ عبور کریں گی۔ معاشی اصلاحات کے نتیجے میں سٹاک مارکیٹ کا سرمایہ 100 ارب ڈالر ہو گیا۔ گزشتہ 5 سال میں 223 ارب ڈالر کی ریکارڈ سرمایہ کاری ہوئی۔
بجٹ میں زرعی قرضوں کا ہدف 1100 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ زرعی شعبے کو 800 ارب روپے کے قرضے دے رہے ہیں۔ زرعی شعبے کیلئے مراعات جاری رکھی جائیں گی۔ کھادوں پر جنرل سیلز ٹیکس 2 فیصد لا رہے ہیں۔
بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 4.9 فیصد ہو گا۔ آئندہ 3 سال میں مالیاتی خسارہ بتدریج کم کیا جائے گا۔ ایف بی آر کی وصولیوں کا ہدف 4435 ارب جبکہ اقتصادی شرح نمو کا ہدف 6.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔ این ایف سی کے تحت صوبوں کو 2500 ارب منتقل ہوئے ہیں۔ عارضی طور پر بے گھر ہونیوالوں کیلئے خطیر رقم رکھی گئی ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں بی آئی ایس پی کیلئے 125 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز، وزیرِاعظم یوتھ پروگرام کیلئے 10 ارب مختص اور سماجی تحفظ کے پروگرام کو جاری رکھا جائے گا۔