طب کی دنیا میں انقلاب، امریکہ میں پہلی بار”عضو تناسل” کی کامیاب پیوندکاری

ویب ڈیسک – مغرب یوں تو دنیا بھر میں ہر شعبے میں سب سے آگے ہے مگر طب کے شعبے میں نت نئے تجربے کر کے انسانی زندگی کو دوام بخشنے میں مغرب کی تحقیق اور تجدید کا کوئی ثانی نہیں۔

ایسا ہی کچھ نیا ہوا امریکہ میں جہاں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے دنیا میں پہلی بار عضو تناسل کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کیا ہے۔

امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں ڈاکٹروں نے ایک ایسے امریکی فوجی کا ٹرانسپلانٹ کیا جو افغانستان میں ہورہی جنگ میں اپنے جسم کا ایک اہم ترین حصہ کھو بیٹھا تھا۔

اس طویل سرجری میں ڈاکٹروں نے ایک ایسے ڈونر کا انتخاب کیا جو اب اس دنیامیں رہا اور پیٹ سے لے کر خاص حصے تک کو پورا کا پورا الگ کر کے فوجی کے متاثرہ حصے سے تبدیل کر دیا گیا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فوجی کا جنسی  عمل  بحال ہو جانا چاہیے جو کہ عموماً عضو تناسل کی  پیوندکاری میں ناممکن ہوتا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ جنگ میں زخمی ہونے والے کسی فوجی کے لیے اتنا بڑا آپریشن کیا گیا ہو جس میں عضو تناسل، پیٹ کے حصے اور سکروٹم کی مکمل پیوندکاری کرنا پڑی ہو۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اخلاقی نقطہِ نظر کی وجہ سے عطیہ کنندہ کے فوطے   نہیں لیے   گئے۔

جانز ہاپکنز یونیورسٹی میں شعبہِ پلاسٹک اینڈ ری کنسٹرکٹیو سرجری کے سربراہ ڈاکٹر اینڈریو لی کا کہنا تھا کہ اگرچہ ظاہری طور پر انسانی اعضا کھونے والوں کی معذوری سب کو نظر آتی ہے مگر کچھ ایسے چھپے ہوئے زخم ہوتے ہیں جن کو دوسرے لوگ زیادہ سمجھ نہیں سکتے۔

مذکورہ آپریشن کروانے والے فوجی کی خواہش ہے کہ اس کی شناخت ظاہر نہ کی جائے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انھیں مکمل طور پر صحت یاب ہونے میں چھ ماہ سے ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

source

تبصرہ کریں

Your email address will not be published.