”جنھے کشمیر نہیں تکیا اوہ کشمیری نہیں“

سفر نامہ مظفر آباد کی روداد خواجہ آفتاب کے قلم سے

کہتے ہیں کہ سفر وسیلۂ ظفر ہوتا ہے۔ اگرچہ ظفر کے معنی فتح کے بھی ہیں مگر ہم تو اس سفر کے مفتوح بن گئے۔ آزاد کشمیر کے ہمارے اس سفر کا وسیلہ محسن علی بنے۔ قریباً ڈیڑھ دہائی پر محیط ہمارا تعلق بالآخر ایک ایسے سفر کا سبب بنا جسے اس سے قبل ہم نے اپنی سطح پر ہمیشہ ٹالنے کی ہی کوشش کی۔ مثل مشہور ہے کہ ’’جنھے لہور نہیں ویکھیا او جمیا ای نہیں‘‘۔ اپنے دورۂ مظفر آباد کے بعد اگر مَیں یہ کہوں کہ ’’جہنے کشمیر نہیں تکیا اوہ کشمیری نہیں‘‘ تو شاید کسی حد تک ٹھیک ہو۔ البتہ قارئین یا پھر کسی کشمیری کا میری اس بات سے متفق ہونے کو محض اتفاق ہی سمجھا جانا چاہیے۔ اگرچہ محترم ساجد یزدانی چند روز قبل میرے اس ’’خیال‘‘ کی تصدیق کر چکے ہیں۔ ایک تقریب میں ملے تو دیکھتے ہی بے ساختہ بولے ’’چلو ہُن تسی کشمیری کنفرم ہو گئے او‘‘۔ 27 اپریل کی نصف شب کے بعد یعنی رات ڈیڑھ بجے جب سکائی ویز کی بس راولپنڈی کی جانب محوِ سفر ہوئی تو اس وقت بھی میرے خواب و خیال میں آزاد کشمیر کے حوالے سے کوئی خاص تاثر یا سوال نہیں تھا۔ مَیں تو محض اس لیے جا رہا تھا کہ میری بیٹی ماہ رخ کے میٹرک کے امتحانات ختم ہوئے تھے اور محسن علی کی ایک مرتبہ پھر مظفر آباد ساتھ چلنے کی آفر قبول کرنے کا یہ بہترین موقع تھا، سو ہم نے رختِ سفر باندھا اور چل دیے مظفر آباد۔

مظفر آباد کا شہر جو 2005 کے خوفناک زلزلے میں شدید متاثر ہوا، جس کے گانو کے گانو صفحہء ہستی سے مٹ گئے۔ جہاں عمارتوں کے ملبے تلے دبی انسانی لاشوں کے تعفن نے بچ جانے والوں کے لیے سانس لینا بھی دوبھر کر دیا تھا، آج وہاں اس تباہی کے آثار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب ایک ایسا خوب صورت شہر آباد ہو چکا ہے جس کی اونچی نیچی سڑکوں پر رات گئے مٹرگشت اور بل کھاتی پہاڑیوں پر سفر کرنا بہت اچھا لگا۔ ہاں تو ذکر ہو رہا تھا لاہور سے روانگی کا۔ موٹروے پر بس یوں دوڑ رہی تھی کہ جیسے کھلے سمندر میں کوئی جہاز لہروں کو چیرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہو۔ بس کی خوش مزاج ہوسٹس وقفے وقفے سے مہمان داری کرتے نظر آتی تو لگتا کہ بس چل رہی ہے ورنہ تو محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ بس ہلتی بھی ہے۔ اب ہمیں نہیں معلوم کہ اس ’’ہلچل‘‘ کی وجہ اس ہوسٹس کی صحت تھی یا کچھ اور…! قریباً صبح سواچار کے قریب بس ایک چھوٹے سے ٹرمینل پر رکی جو غالباً صرف سکائی ویز کی بسوں کے لیے ہی مخصوص تھا۔ باہر نکلے تو لاہور کی گرمی سے کوسوں دُور نکل چکے تھے۔ صبح کی ٹھنڈک خدا کی رحمت کا پتا دے رہی تھی۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو فجر کے وقت بستر کو چھوڑ کر ربِ کائنات کے حضور حاضری دیتے ہیں۔ اس چھوٹے سے ٹرمینل پر وضو اور نماز کے لیے باقاعدہ جگہ مختص تھی جہاں کئی مسافروں نے نمازِ فجر ادا کی۔ ماہ رخ ہاتھ میں کافی کا کپ تھامے صبح کی پھوٹتی پو اور موسم کو انجوائے کر رہی تھی۔ محسن علی، جو دورانِ سفر سونے کا خوب تجربہ رکھتے ہیں کی آنکھیں ادھوری نیند کا پتا دے ر ہی تھیں۔ بیس منٹ کے وقفے کے بعد بس دوبارہ جانبِ راولپنڈی گامزن ہوئی تو ساؤتھ انڈین فلم بھی وہیں سے چل پڑی جہاں سے رکی تھی۔ جو لوگ فلم دیکھ رہے تھے انھوں نے دوبارہ ہیڈ فون لگا لیے جب کہ محسن سمیت کئی پھر سے سونے میں مشغول ہو گئے۔ کچھ ہی دیر بعد ہوسٹس نے منزلِ مقصود کے قریب پہنچنے کا اعلان کیا تو ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ اتنا بروقت!!

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *