اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا قدم، نواز ،مریم اور صفدر کی الیکشن سے پہلے ضمانت کی امید ختم

مانیٹرنگ  ڈیسک –  شریف خاندان کے لئے ایک اور بری خبر، نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر انتخابات جیل میں گزاریں گے اور وہیں قیدی کی حیثیت سے اپنا ووٹ ڈالین گے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ  نے سابق وزیر اعظم نوازشریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر کی سزاؤں کے خلاف نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان پر مقدموں کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے اور کیس سماعت کے لئے جولائی کے آخری ہفتے کی تاریخ دے دی۔ جس سے مریم نواز، نواز شریف اور کیپٹن صفدر کے انتخابات 2018 سے قبل جیل باہر آنے کی تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔

تفصیلات کے مطابق آج جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن نے ایون فیلڈ ریفرنس فیصلے کے خلاف نواز شریف، مریم نواز اور محمد صفدر کی اپیلوں پر سماعت کی۔اس موقع پر شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اختیار کیا کہ  نیب نے کسی موقع پر لندن کے ایوین فیلڈ فلیٹس کی مالیت نہیں بتائی اور نہ ہی ان کے موکل کو بچوں کو زیر کفالت ثابت کرسکا۔

عدالت نے شریف خاندان کے خلاف تفتیشی افسر اور استغاثہ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اگلی سماعت پر عدالت میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔ ہائیکورٹ نے کیس کی سماعت جولائی کے آخری ہفتہ تک ملتوی کردی۔ اس طرح مریم نواز اور نواز شریف کے انتخابات 2018 سے پہلے باہر آنے کی امیدیں ختم ہو گئیں اب یہ تینوں جیل میں ہی ایک قیدی کی حیثیت سے اپنا ووٹ ڈالیں گے۔