عام انتخابات ،روایتی جوش و خروش سے خالی کیوں؟؟
یہ خبر لائیک کریں

خواجہ آفتاب حسن
email; [email protected]
ملک میں عام انتخابات کے انعقاد میں بہت کم وقت باقی رہ گیا ہے لیکن اب تک وہ گہما گہمی اور رونق نظر نہیں آرہی جو ماضی میں ہونے والے جنرل الیکشنز کا حُسن رہی ہے۔اس مرتبہ اُمیدواروں اور ان کے حامیوں کی جانب سے کھولے جانے والے انتخابی دفاتر کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابر رہی ۔بینرز اور فلیکسوں کی بھر مار جو 2013ء اور اس سے قبل ماضی میں ہونے والے عام انتخابات میں دکھائی دیتی تھی ،اس مرتبہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔اس کے باوجود کے الیکشن میں زیادہ تر روایتی سیاسی حریف ہی ایک دوسرے کے مد مقابل ہیں مگرپھر بھی انتخابی چہل پہل میں نہ تو ماضی جیسا جوش و خروش دکھائی دے رہا ہے اور نہ ہی مقامی سطح پر’’ تھڑا سیاست ‘‘دوبارہ آباد ہو سکی ہے۔ آزاد امیدوار ڈھونڈے سے نہیں مل رہے ۔پارٹی کارکن اورسپورٹرز جن کے بغیر الیکشن لڑنا جوئے شیر لانے کے مترادف سمجھا جاتاہے، میں بھی اپنے امیدواروں کی کمپین کے حوالے سے روایتی دلچسپی اور جوش نہیں نظر آرہا ۔ساری ساری رات انتخابی دفاتر میں تاش اور لڈوکھیل کر اُسے آباد رکھنے والے بھی سرشام ہی اپنے موبائل بند کرکے گھروں میں جا بیٹھتے ہیں ،جن امیدواروں نے اپنے انتخابی دفاتر کھولے بھی ،ان میں بھی رات ہو تے ہی اُلو بولنے لگنے ہیں۔ اگرچہ الیکشن میں چند ہی روز باقی رہ گئے ہیں مگرابھی تک انتخابی دفاتر میں نہ تو ووٹر لسٹوں کی پرچیاں بنائی جارہی ہیں اور نہ ہی کارنرز میٹنگوں میں اہل علاقہ کی شرکت سے امیدوار کی ’’پوزیشن ‘‘کا اندازہ لگانے والے جوڑ توڑ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔پارٹی پالیسیوں اور مقامی قیادت سے نا لاں ورکرز کو منانے کے حوالے سے بھی کوئی خاص جذبہ نظر نہیں آرہا ۔نظریاتی کارکنوں کی بڑی تعداد اپنی پارٹی کے امیدواروں کی سلیکشن میں ان کی رائے اور مقامی سیاسی حالات کو اہمیت نہ دئیے جانے پرمکمل خاموش اور انتخابی عمل سے لاتعلق دکھائی دے رہی ہے جبکہ بہت سے نظریاتی ورکرز ردعمل کے طور پر کھلے عام اور کئی درپردہ مخالف پارٹی کے امیدواروں کو سپورٹ کرتے بھی نظرآتے ہیں مگر پھر بھی موجودہ الیکشن مجموعی لحاظ سے عوامی سطح پر وہ رنگ نہیں جما پارہا جو کبھی ماضی کا خاصا اور حُسن رہا ہے۔


انتخابی مہم میںبینر ز اور فلیکسوں کے کم نظر آنے کی وجہ تو سمجھ آتی ہے کہ اس مرتبہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق پرسختی سے عملدرآمد کروانے کے باعث امیدوار غیر ضروری اور مقررہ تعداد سے زیادہ بینرز اور فلیکس نہیں لگا رہے کیوں کہ جن امیدواروں یا ان کے سپورٹر ز نے یہ ’’غلطی ‘‘کی وہ بری طرح پھنس گئے ۔نہ صرف خلاف ضابطہ لگائے گئے بینرز اور دیگر تشہیری سامان اتار دیا گیا بل کہ کئی امیدواروں کو جرمانے کے علاوہ مقدمات کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔شائد اسی وجہ سے شہر کی مرکزی شاہراہوں سمیت گلی محلوں اور بازاروں میں امیدواروں کے بینر ز وغیرہ کم ہی نظر آرہے ہیں اور پارٹی پرچموں کی بھی بھر مار نہیں ۔انتخابی گہما گہمی میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ مستونگ ، پشاور اور بنوں میں خود کش دھماکے بھی بنے ہیں ۔ صوبائی امیدوار ہارون بلو ر اور نوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 160سے زائد افراد کی شہادت نے بھی انتخابی مہم کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے ۔ عوام کا بہت بڑا طبقہ اب بھی انتخابات کے انعقاد کے حوالے سے بے یقینی کی کیفیت کاشکار ہے اور اس بات پر مصرہے کہ الیکشن 25جولائی کو نہیں ہوں گے ،اس حوالے سے دلیل یہ دی جارہی ہے کہ اگر 13جولائی کو میاں نواز شریف کی واپسی کے استقبال کی خبر کی اہمیت کو کم کرنے کے لئے مستونگ میں ایک سو ساٹھ افراد کی جانوں کو اس ؒسوچ‘‘کی بھینٹ چڑھایا جاسکتا ہے تو عا م انتخابات کو ملتوی کرنے کے لئے بھیؒکچھ بھی ‘‘ہو سکتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں انتخابات میں انتہائی کم وقت رہ جانے کے باوجود عوامی جوش وخروش نظر نہ آنے کی بڑی وجہ جہاں ماضی میں منتخب ہو نے والے نمائندوں کا رویہ اوراپنے انتخابی حلقوں کو نظر انداز کرناہے وہیں سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کو کارنر کرنے کے لئے اس کی اعلیٰ قیادت کو سیاسی منظر سے ہٹانے کی کوشش بھی ہے جو بہ ہر حال ایک مخصوص طبقے کے سوا جمہوری سوچ رکھنے والے کسی بھی پاکستانی کو ہضم نہیں ہوپا رہی ۔


عوام کی بہت بڑی تعداداب یہ سمجھتی ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاستدان کی کارکردگی کااحتساب کرنے اور اسے، اس کے غلط سیاسی فیصلوں کا جواب دینے کے لئے ووٹ ہی سب سے بڑی طاقت ہے ۔لہٰذا یہ حق صرف عوام کو حاصل ہے کہ وہ اپنے ووٹ کے ذریعے سیاستدانوں کا احتساب کریںجبکہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت سمیت سیاستدان بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایک مخصوص پارٹی کے لئے راہ ہموار کی جارہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیںکہ میاں نواز شریف کو وزارت عظمٰی سے نااہل کئے جانے کے بعد ملکی سیاست میں پاکستان تحریک انصاف کا پلڑہ بہت بھاری ہو گیا تھا مگر چیئر مین عمران خان کے جلسوں کے سوا پی ٹی آئی انتخابی ماحول کو گرمانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوپائی۔حالاں آں کہ میاں صاحب کو سزا کے فیصلے پرمسلم لیگ ن کی جانب سے جس نیم دلی سے ردعمل دیا گیا وہ یقینا برسر اقتدار پارٹی کے شایان شان نہیں تھا ۔دور کی کوڑی لانے والوں کے خیال میں اس کی بڑی وجہ پارٹی میں چھوٹے میاں صاحب کی صدارت کا راستہ کھلنے والوں کی وہ خوشی تھی جسے چھپانا بہت ضروری تھا۔تاہم اس صورت حالات کافائدہ تحریک انصاف کو ہی ہو ا جو اس وقت بلا شبہ مسلم لیگ ن کی سب سے بڑی حریف جماعت کے طور پر پوری طرح سامنے آ چکی ہے۔وزارت عظمٰی اور پارٹی قیادت سے نااہلی کے بعد عوامی اجتماعات میں نواز شریف کی ٹون مکمل طور پر تبدیل ہو گئی اور انہوں نے ووٹ کو عزت دو ‘‘ کا نعرہ اپنے بیانیے کا حصہ بنا لیا ۔ ایک طرف مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کونوازشریف اور ان کی صاحبزادی لیڈ کررہے تھے جو بڑی کامیابی سے جاری تھی اور دوسری جانب ماضی کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں سے اپنے امیدوار بھی نہیں مل رہے تھے اور پاکستان تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور چیئر مین عمران خان کی طرف سے الیکٹیبلز اور نان الیکٹیبلز کے فرق نے کارکنوں میں خاصی مایوسی پیدا کردی تھی،کئی روزہ بنی گالہ کے باہر دھرنااور عمران خان کی جانب سے تحریک انصاف میں جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی گروپوں کی موجودگی کے اعتراف نے پی ٹی آئی کے گراف کو خاصا متاثر کیا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ انتخابات میں تحریک انصاف کو ہی کامیاب دیکھنے والی قو توں کو یہ صورت حالات کسی طور بھی ؒسوٹ ‘‘نہیں کررہی تھی اس لئے مطلوبہ نتائج‘‘کے حصول کے لئے ؒآوٹ آف باکس‘‘حل کے لئے کوششیں جاری رہیں۔


عوامی سطح پر جاری تینوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ن ،پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی جانب سے انتخابی اجتماعات کے باوجود گلی محلہ کی سطح پر ٹکٹ ہولڈرامیدواراور پارٹی عہدیدار اپنے اپنے حلقوں میں الیکشن کی گہما گہمی پیدا کرنے میں نا کام ہی دکھائی دیتے ہیںشائدوہ خود بھی اس تذبذب میں مبتلا رہے ہیں کہ انتخابات 25جولائی کو ہوں گے بھی یا نہیں۔ عوام میں الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے بے یقینی کی فضا ابھی پوری طرح ختم نہیں ہو پائی تھی کہ بیگم کلثوم نواز جو کئی ماہ سے اپنی صحت کے حوالے سے انتہائی مشکل صورت حالات سے دوچار ہیں کو جب وینٹی لیٹر پر منتقل کرنے کی نو بت آپہنچی تو میاں نوازشریف اور ان کی صاحبزادی مریم نوازصفدر کو مجبورا لندن جانا پڑااسی دوران احتساب عدالت نے نواز شریف کو دو مختلف شیڈول کے تحت دس برس اور ایک برس، مریم نواز کو سات برس اور ایک برس جبکہ ریٹائرڈ کیپٹن صفدر کو ایک برس قید بامشقت کی سزا سنا دی۔فیصلہ آنے سے قبل نواز شریف نے عدالت کو درخواست کی کہ فیصلے کو چند روز کے لئے موخر کیاجائے کیوں کہ وہ چاہتے ہیں کہ فیصلے کے وقت عدالت میں موجود ہوں تاہم ان کی اہلیہ کی تشویشنا ک حالت اس بات کی متقاضی ہے کہ وہ اور ان کی بیٹی لندن میں رہیں اور فیصلہ کچھ روز بعد سنایا جائے۔ تاہم عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اپنے طے شدہ ٹائم فریم کے مطابق 6جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا۔فیصلہ آتے ہی پی ٹی آئی کی کمزور پوزیشن کو استحکام ملا اور وہ کسی حد تک قوم کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگئی کہ نواز شریف جیل جانے سے ڈر گئے ہیں اور اب واپس نہیں آئیں گے اور یوں سیاسی حالات میں آنے والی تبدیلی سے پی ٹی آئی ایک مرتبہ پھر الیکشن کی دوڑ میں سب سے نمایاں پوزشن پر آگئی ۔مگر اتنی بڑی سیاسی کامیابی کے باوجود تحریک انصاف انتخابی چہل پہل اور عوامی جوش و خروش پیدا کرنے میں اس طرح کامیاب نہیں ہو سکی جس طرح وہ سوشل میڈیا پر سرگرم نظر آتی ہے ۔دوسری جانب نیب عدالت کی سزا پر بھی کمزور ردعمل نے مسلم لیگ ن کے مستقبل کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کردئیے ۔اس حوالے سے نواز شریف کی جانب سے لاہور سمیت پاکستان کے کسی بھی شہر میں لیگی کارکنوں کے سژکوں پر نہ نکلنے پر پارٹی صدر شہباز شریف کی باز پرس کئے جانے کی خبریں بھی گردش میں رہیں۔ سزا پر ردعمل کے طور پر میاں نواز شریف نے لندن میں جو پہلی پریس کانفرنس کی اس میں بھی انہوں نے وطن واپسی کو اپنی اہلیہ کی صحت سے مشروط کر دیا جس کی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہو گیا کہ میاں صاحب ڈر گئے ہیں اور شائد اب واپس نہیں آئیں گے۔اس وجہ سے ن لیگ کی انتخابی مہم بھی کمزور پڑنے لگی ۔لیگی امیدوار مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہو گئے اور پارٹی کارکنوں کا رہا سہا مورال بھی ڈائون ہو گیا۔


ایک طرف میاں نواز شریف کو سزا اور دوسری جانب چودھری نثار کی جانب سے’جیپ‘ کا نشان لینے کے بعداس نشان کی ڈیمانڈ میں اضافے سے یہ تاثر بڑی تیزی سے پھیل گیا کہ ’’جیپ‘‘کو اسٹیبلیشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے ۔ جنوبی پنجاب کے لیگی امیدواروں کی جانب سے انتخابی نشانات الاٹ کئے جانے کے اوقات ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل ’’شیر‘‘کو چھوڑ کر اچانک ؒجیپ ‘‘کا نشان لینے سے بھی اس تاثر کو فروغ ملا۔اس تاثر کو زائل کرنے کے لئے آئی ایس پی آر کو یہ وضاخت کرنی پڑی کہ اس ’’جیپ‘‘کا فوج کی جیپ سے کوئی تعلق نہیںتاہم جب تک یہ وضاحت سامنے آئی تب تک ؒجیپ‘‘کے نشان پر لڑنے والے تیسری اور فیصلہ کن قوت کاروپ دھار چکے تھے ۔پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی قیادت نے باربار اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ۔لیکن دونوں جماعتیں باربار اقتدار میں رہنے کے باوجود عا م انتخابات کو عوامی رنگ دینے میں کامیاب نہ ہو سکیںجبکہ ان کی حریف پارٹی تحریک انصاف بھی لاکھ کوششوں اور تبدیلی کے نعرے کے باوجود گلی اور محلے کی سطح پر الیکشن کا روایتی جو ش و خروش پیدا نہ کرسکی۔مگر 13جولائی کو پاکستان واپسی کے بعد میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز صفدر کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل پہنچا ئے جانے کے بعد مسلم لیگ ن کی عوامی سیاست زندہ ضرور ہو گئی ہے ۔لیگی کارکن جو میاں صاحب کے بیرون ملک ہونے اور ان کو سزا کی وجہ سے مایوسی کا شکار ہو چکے تھے اور ؒشیر ‘‘کے نشان پر انتخابات لڑنے والے امیدوار جوخاصی بے یقینی کا شکا ر تھے ،دوبارہ سیاسی مقابلے اور اپنے حریفوں کو ٹف ٹائم دینے کے لئے کمر کس چکے ہیں ۔مسلم لیگ ن کے انتخابی دفاتر آباد ہونا شروع ہوگئے ہیں مگر ماضی کا جوش اور روایتی گہماگہمی اب بھی کم ہی نظر آرہی ہے ،کہیں اس کی وجہ عوام میں پایا جانے والا خدشہ تو نہیں کہ الیکشن 25جولائی کو نہیں ہو ں گے!!
الیکشن کمیشن آف پاکستان بار بار ان تحفظات اور خدشات کو دور کرچکا ہے کہ جنرل الیکشن 25جولائی کو ہی ہوں گے،غیر جا نب دار سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میںاب یہ سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی عمل کو روایتی گہماگہمی اور جوش وخروش کے ساتھ مکمل کریں،اپنے کارکنوں کو متحرک کریں ۔ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرتے ہوئے انتخابی دفاترکی ویرانیوں کو دور کریں کیوں کہ یہ انتخابی دفاتر نہ صرف سیاسی سرگرمیوں کا محور ہوتے ہیں بل کہ نئے پارٹی ورکرز اور نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا بہترین مرکز بن سکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ مسلم لیگ ن ،پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف سمیت عام انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتیں اپنے انتخابی دفاتر کوغیر سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھیں۔امیدواروں اور پارٹی عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ ہار جیت کے سوچ کو ایک سائیڈ پر رکھتے ہوئے اس سوچ کو پروان چڑھائیں کہ جو بھی جیتے ،پاکستان کی ہی جیت ہواور جو ہارے وہ اس شکست کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے بغیر ان پہلوئوں پر غور کرے کہ جس کی بنا پر عوام نے اسے مستردکردیا۔انتخابات کو ایک فیسٹیول سمجھنا چاہیے نہ کہ دشمنی کا سبب بنانا چاہیے کیوں کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے جب تک تمام سیاسی پارٹیاں آپس کے اختلافات سے بالاتر ہو کر نہیں سوچیں گی ،پارٹی ورکرز اپنی قیادت کے سوچ کامہرہ بننے کے بجائے حقائق کو مدنظر نہیں رکھیں گے ملک اندرونی وبیرونی سازشوں اور شر انگیزیوں سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔

یہ خبر لائیک کریں

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *