نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی آزادی اظہار نہیں، یورپی عدالت کا فیصلہ

ویب ڈیسک – یورپ میں انسانی حقوق کی عدالت نے مسلمانوں کے حق  میں بڑا فیصلہ دیتے ہوئے نبی کریم ﷺشان میں گستاخی کو آزادی اظہار سے بالاتر قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی کا مطالبہ کر دیا۔

یورپی یونین کی عدالت برائے انسانی حقوق (ای ایچ سی آر) نے حضورنبی کریمﷺ کے لیے توہین آمیزکلمات کہنے والی آسٹریا کی ’ای ایس‘ نامی خاتون کے خلاف سزا کے فیصلے میں کہا ہے کہ پیغمبراسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کو آزادیٴ اظہار قرار نہیں دیا جاسکتا، یہ گستاخی تعصب میں اضافے کی وجہ بن سکتی ہے جس کے باعث بین المذاہب امن بھی خطرے میں پڑسکتا ہے۔

عدالت نے خاتون کوسزا دیتے وقت ان کے حقِ آزادیٴ اظہاراوردوسروں کے مذہبی جذبات کے تحفظ کے حق میں بڑی احتیاط سے توازن برقرار رکھا ہے جب کہ یہ فیصلہ مذہبی امن و امان برقرار رکھنے کا مقصد بھی جائز طور پر پورا کرتا ہے۔

یاد رہے کہ ای ایس نامیخاتون نے 2008 اور2009 میں نبی کریم ﷺ کے بارے میں چند کلمات ادا کیے تھے جسے کے بعد اس کے خلاف ویانا کی ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا تھا اورعدالت نے انہیں فروری 2011 میں مذہبی اصولوں کی تحقیر کا مجرم قرار دیتے ہوئے 480 یوروکا جرمانہ عائد کیا تھا۔