میرے خلاف کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی، بچے باہر کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے؟ نوازشریف کا جذباتی بیان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم پاکستان اور مسلم لیگ ن کے تا حیات صدر نوازشریف آج احتساب عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروانے کے لئے پیش ہوئے۔ بیان ریکارڈ کرواتے نواز شریف نہایت جذباتی ہوگئے اور عدالت میں اپنی اور اپنے خاندان کی دکھ بھری داستان سنانے لگ گئے۔

نوازشریف نے بیان ریکارڈ کروانے کے دوران جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جے آئی ٹی نے تحقیقات کے دوران جو بیانات ریکارڈ کئے وہ قابل قبول شہادت نہیں، تفتیشی ایجنسی کے سامنے دیا گیا بیان عدالت میں بطور شواہد پیش نہیں کیا جاسکتا۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرےاکاؤنٹ میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم درست طور پر ظاہر کیں، جوایف بی آر ریکارڈ میں ظاہر ہیں۔

نوازشریف نے جج کو مخاطب کرتے ہوئے کہ “ہمیں دھکے دیکر باہر نہ نکالا جاتا تو ہمارے بچے یہاں کاروبار کرتے ۔ پہلے 1971 میں دھکے دیکر نکالا گیا پھر 1999 میں دھکے دیکر نکالا گیا۔ میرے بچے یہاں کاروبار کریں تو مصیبت، باہر کاروبار کریں تو مصیبت۔ انہوں نے بیرون ملک کاروبا رکرکے اچھا کیا، میرے بچوں نے مجھے پیسے بھیج دئیے تو کونسا عجوبہ کیا؟ میں پاکستان کا وزیراعظم رہا ہوں۔

حسن اور حسین نواز کے حوالے سے نوازشریف نے کہا کہ اگر میرے بچے باہر کے ملک کاروبار نہ کرتے تو کیا بھیک مانگتے؟ اس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے نوازشریف کو کہا کہ سوال سے نہیں کہ باہر کاروبار کیوں کرتے ہیں سوال یہ ہے کہ کاروبار کیسے کرتے ہیں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی میرے خلاف یہ کیس کیوں بنایا گیا ہے۔

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *