عمران خان اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹویٹر پر جنگ شروع
یہ خبر لائیک کریں

واشنگٹن (ویب ڈیسک) پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹویٹر پر جنگ شروع ہو گئی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے الزام تراشی کے بعد پاکستانی وزیراعظم نے ڈونلڈ ٹرمپ کو منہ توڑ جواب دیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ٹویٹر کا سہارا لیتے ہوئے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہےاب ہم پاکستان کو کوئی ڈالر نہیں دیں گے کیوں کہ پاکستان ہماری کوئی مدد نہیں کرتا۔ اب سب کچھ ختم !

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے امریکی صدر کو آئینہ دکھایا گیا تو ٹرمپ نے اس حوالے سے دو ٹویٹس کیے پہلے ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ  ’ یقیناً ہمیں اس سے بہت پہلے اسامہ بن لادن کو پکڑلینا چاہیے تھا، میں نے 11 ستمبر کے واقعے کے بعد ہی اپنی کتاب میں اس جانب اشارہ کردیا تھا اور صدر بِل کلنٹن نے اسے نظرانداز کیا تھا ہم نے پاکستان کو اربوں ڈالر دیئے لیکن اس نے ہمیں نہیں بتایا کہ وہ وہاں رہائش پذیر ہے، احمق۔‘

 

جبکہ اپنی دوسری ٹویٹ میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ اب ہم پاکستان کو مزید اربوں ڈالر نہیں دیں گے، کیونکہ انہوں نے ہماری رقم لی اور کیا کچھ نہیں اس کی بڑی مثال اسامہ بن لادن اور افغانستان ہیں، ہم ان بہت سے ممالک میں سے ایک ہیں جن سے پاکستان رقم لیتا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں دیتا لیکن اب اس کا اختتام ہوچکا ہے۔‘

امریکی صدر کی جانب سے الزام لگانے پر پاکستان کے وزیراعظم نے فوری ایک اور ٹویٹ داغا جس میں انہوں نے کہا کہ

ٹرمپ کے غلط بیانات زخموں پر نمک چھڑکنے کے موجب ہیں۔ ہم نے دہشت گردی کیخلاف امریکی جنگ کا خمیازہ جانوں کے ضیاع اور معاشی عدم استحکام کی شکل میں بھگتا ہے۔ٹرمپ کو تاریخی حقائق سے آگاہی درکار ہے۔ہم امریکی جنگ میں پہلے ہی کافی نقصان اٹھا چکے ہیں،اب وہی کریں گے جو ہمارے مفاد میں ہوگا۔

 

 

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر  ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹویٹر پر لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب امریکی  صدر نے الزام لگایا کہ پاکستانی حکام کو القاعددہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی موجودگی کا علم تھا۔اور پاکستان نے کبھی امریکہ کی کوئی مدد نہیں کی۔

پاکستان کےوزیراعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات کا جواب دیتے ہوئےکہا تھا کہ امریکہ اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے پاکستان کو قربانی کا بکرا نہ بنائے۔ امریکہ نے جو امداد دی وہ پاکستان کے نقصان سے کئی گنا کم ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے آج اپنے ٹویٹر اکاوٴنٹ سے ٹویٹ کئے جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان پر الزام تراشی کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ امریکی صدر کو اپنے ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے۔ نمبر1، کوئی بھی پاکستانی امریکہ میں ہوئے 9 ستمبر کے حملوں میں ملوث نہیں تھا۔ پھر بھی پاکستان نے امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ نمبر 2، 75000 پاکستانیوں نے دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا جبکہ پاکستان کی معشیت کو 123 بلین ڈالر کا نقصان ہوا جس کے مقابلے میں امریکی امداد صرف 20 بلین ڈالر تھی۔ جو کہ نہایت کم تھی۔

 

وزیراعظم عمران خان نے تیسرے نقطے مزید لکھا کہ ہمارے قبائلی علاقے اس جنگ سے بری طرح متاثر ہوئے۔ اس جنگ نےعام پاکستانیوں کی زندگیوں میں تباہ کن اثرات مرتب کیے پاکستان نے پھربھی امریکا کو مفت زمینی اورفضائی سہولت مہیا کی، کیا مسٹرٹرمپ کوئی ایسےاتحادی کا نام بتاسکتے ہیں جس نے یہ قربانیاں دی ہوں۔

آخر میں عمران خان نے امریکی صدر کو مشورہ دیا کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے کی بجائے امریکہ اپنی نکامیوں کا خود جائزہ ہے اور سوچے کہ کیوں 140000 نیٹو افواج اور 250000 افغان افواج پر کھربوں ڈالر خرچ کر کے بھی ناکامی ان کا مقدر بنی ہے۔

 

یہ خبر لائیک کریں

تبصرہ کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *