بھارتی سائنسدان پاگل ہو گئے، آئن اسٹائن اور نیوٹن کو غلط قرار دے دیا

ویب ڈیسک – بھارتی سائنسدان مودی کو خوش کرنے کے لئے اتنا آگے چلے جائیں گے کسی نے بھی سوچا نہ ہو گا۔ الندھر میں ہونے والی 106 ویں سائنس کانفرنس ميں بھارتی سائنسدانوں نے سائنسی تاریخ کو جھٹلاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ آئن اسٹائن اور نیوٹن کی فزکس جلد ختم ہوجائے گی اور نئی ثقلی لہروں کا نام ‘نریندرا مودی’ لہريں ہوگا۔

بھارتی سائنسدانوں کے اس دعوے سے جہاں دنیا بھر میں بھارت کا مذاق بن رہا ہے وہیں بھارت کے اپنے لوگ سائنسدانوں کے خلاف احتجاج کرنا شروع ہو گئے ہیں اور انہیں پاگل قرار دے دیا ہے۔

اس سائنس کانفرنس میں بھارتی سائنسدانوں کے مضحکہ خیز دعوے سامنے آئے ہیں جس میں انہوں نے آئن اسٹائن اور نیوٹن کے سائنسی نظریات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے  اپنے حکمرانوں کی خوشامد میں ہوائی مشاہدات کو ان کے ناموں سے منسوب کرڈالا ہے۔

بھارتی ریاست تامل ناڈو سے تعلق رکھنے والے سائنسدان کنان جیگاتھلا کرشنان نے عالمی سطح پر مستند اور مصدقہ فزکس نظریات کو جھٹلاتے ہوئے کہا کہ فزکس کی مساوات کو حل کرنے میں نیوٹن اور آئن اسٹائن نے بہت بڑی غلطیاں کی ہیں۔

بھارتی سائنسدان نے دعویٰ کیا کہ جدید فزکس صرف مختصر دور کیلئے ہے اور یہ جلد مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی۔ ان کے مشاہدات پر مبنی نئی فکر سامنے آئے گی، یہ دعویٰ کرنے والے تامل ناڈو کے الیار میں ”ورلڈ کمیونٹی سروس سینٹر‘ کے سینئر ریسرچ سائنسدان ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئن اسٹائن نے اپنی تھیوری کے متعلق دنیا کو گمراہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خلاء سور ج سمیت دیگر سب سیاروں پر بھاری ہے، اس لیے وہ تمام پر یکساں دباؤ رکھتی ہے، یکساں دباؤ کی وجہ سے یہ سیارے حرکت میں ہیں، یہی چیز نیوٹن اور آئن اسٹائن سمجھ نہیں پائے۔

کانفرنس میں بھارتی سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ثقلی لہروں کا نیا نام ’نریندرا مودی لہریں‘ ہوگا۔

اسی کانفرنس میں دیگر سائنسدانوں کی جانب سے مزید انکشافات بھی سامنے آئے جیسے کہ بھگوان رام اور کرشنا گائیڈڈ میزائل استعمال کیا کرتے تھے، بادشاہ کورو کی اولاد’ کورواس‘ اسٹیم سیل اور ٹیسٹ ٹیوب ٹیکنالوجی کی وجہ سے پیدا ہوئی، راون کے پاس مختلف شکلوں اور جسامت کے کئی جہاز تھے۔

بھارتی سائنسدانوں کے ان دعووں پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جا رہی ہے، کہ یہ سائنس کانفرنس تھی یا کامیڈی شو۔

خیال رہے کہ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے کہ بھارتی سائنسدانوں کی جانب سے ایسے مضحکہ خیز بیانات سامنے آئے ہیں۔ اس سے قبل بھی ایسے کئی دعوے سامنے آچکے ہیں جیسے کہ جہاز کا ذکر قدیم ہندو کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی 2014 میں کہہ چکے ہیں کہ کاسمیٹک سرجری بھگوان گنیش کے دور سے موجود ہے۔

ایک بار نریندر مودی نے گٹر کی گیس سے چائے بنانے کا بھی انوکھا فارمولا بتایا تھا جس پر خوب تنقید کی گئی تھی۔

ان کے بہت سے وزیر بھی ایسے ہی خیالات کے حامل ہیں اور بہت سوں کا خیال ہے کہ ہندو ایک شاندار ماضی کے وارث ہیں اور انڈیا میں ہزاروں سال پہلے سائنس اور ٹیکنالوجی عروج پر تھی۔

سنہ 2017 میں انڈیا کے جونیئر وزیر تعلیم ستیپال سنگھ نے کہا تھا کہ پہلی بار طیاروں کا ذکر رامائن میں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلا پرواز کرنے والا طیارہ ایک انڈین شخص شواکر بابوجی تلپڈے نے ایجاد کیا تھا اور ایسا طیاروں کے موجد رائٹ برادرز کی ایجاد سے آٹھ سال پہلے کیا گیا تھا۔

سنہ 2017 میں ہی مغربی ریاست راجستھان کے وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ گائے کی ’سائنسی اہمیت کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کیوں کہ وہ دنیا کا واحد ایسا جانور ہے جو سانس لیتے وقت آکسیجن اندر لیتا ہے بلکہ سانس چھوڑتے وقت بھی اکسیجن ہی باہر بھی نکالتا ہے۔

2018 میں ٹیکنالوجی کی جنگ میں نیا تیر شمال مشرقی ریاست تریپورہ کے وزیر اعلیٰ بپلب کمار دیو نے چلایا تھا اور کہا تھا کہ انٹرنیٹ قدیم ہندوستان کی ایجاد ہے اور ہزاروں سال پہلے براہ راست نشریات کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

source 1  

source 2