اس نے پہلے چرس پی پھر میری آنکھوں کے سامنے آگ لگائی اور مسکراتا رہا، سانحہ بلدیہ ٹاوٴن کا اہم ترین چشم دید گواہ عدالت میں پیش، خوفناک انکشافات

ویب ڈیسک – ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ جس نے 250 افراد کی زندگیوں کا چراغ گل کر دیا تھا، اب اس کے مقدمے میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ جس میں ایک عینی شاہد نے عدالت کے سامنے پیش ہوکر اس سانحہ کے مرکزی ملزم زبیر عرف چریا کو شناخت کر لیا۔

تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت کے دوران ایک اہم ترین گواہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہوا اور اس نے عدالت کے روبرو 11 ستمبر 2012 کو ہونے والے  اندوہناک واقعے کی روداد سنائی اور فیکٹری میں آگ لگانے والے ملزم زبیر عرف چریا کو پہچان لیا۔

عینی شاہد نے بتایا کہ زبیر چریا نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ گودام میں پہلے چرس پی اس کے بعد میرے سامنے اپنی جیب سے کچھ تھیلیاں نکال کر گودام میں موجود کپڑوں پر پھینکیں۔

یہی عمل اس نے دوسری منزل پر بھی کیا اور آگ لگنے پر زبیر چریا مسکراتا رہا، گواہ کا کہنا تھا کہ وہ زبیر چریا کے دیگر ساتھیوں کو بھی شناخت کرسکتا ہے۔ جس پر ملزمان زبیر چریا اور عبد الرحمٰن عرف بھولا کے وکیل نے عینی شاہد کے بیان پر جرح کرتے ہوئے پوچھا کہ سانحہ کے اتنے عرصے بعد بیان کیوں قلمبند کرایا؟

گواہ نے بتایا کہ مجھے جان کا خطرہ تھا اس لیئے پنجاب چلا گیا تھا اب مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے بلا کر تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری اٹھائی ہے اس لیے آکر بیان دیا۔

یاد رہے کہ 11 ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں قائم کپڑے کی فیکٹری میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔

سانحے کی تحقیقات کے لیے رینجرز اور پولیس سمیت دیگر اداروں کے افسران پر مشتمل 9 رکنی مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی تھی، جس نے اپنی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کرائی تھی۔

سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں فروری 2015 میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب رینجرز کی جانب سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں ایم کیو ایم کو اس واقعے میں ملوث قرار دیا گیا۔