ہم جنس پرستی کی سزا سرعام سنگسار، بین الاقوامی دباوٴ مسترد کرتے ہوئے بڑے اسلامی ملک نے شرعی سزائیں نافذ کر دیں

ویب ڈیسک ۔ بین الاقوامی تنظیموں اور عالمی برادری کے دباوٴ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے برونائی نے ملک بھر میں اسلامی شرعی سزاوٴں کا قانون لاگو کر دیا۔ ملک بھر میں سزائیں تین اپریل سے نافذ عمل ہو گئیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برونائی نے ہم جنس پرستی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے اس میں ملوث افراد کو سر عام سنگسار کرنے سمیت تمام جرائم پر شرعی سزاوٴں کا قانون پاس کر لیا گیا۔

برونائی کی حکومت کی جانب سے اس قانون کی بھی منظوری دی گئی کہ جو شخص چوری کے جرم میں گرفتار ہوا تو اُس کا ہاتھ کاٹا جائے گا جبکہ قتل کرنے اور منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے افراد کا سرقلم کیا جائے گا۔

برونائی کے سلطان حسن آل بولاکی نے شرعی قوانین کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’میں اپنے ملک میں شرعی قوانین دیکھنا چاہتا ہوں کیونکہ اسی کے ذریعے جرائم پر قابو پانا ممکن ہے اور ہم دنیا بھر میں ترقی بھی کرسکتے ہیں‘۔

یاد رہے کہ سلطان آف برونائی کی جانب سے اسلامی شرعیت کے مطابق سزاوٴں کے قانون پر عمل دار آمد پر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید رد عمل آیا ہے تاہم برونائی نے ہر قسم کے بین الاقوامی دباوٴ کو مسترد کرتے ہوئے ملک اسلامی قانون کے نفاذ کو خوش آئندہ قرار دیا اور کہا ہے کہ اس سے جرائم کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی۔