نازیہ کو طلاق نہیں دی تھی، وہ آخری وقت تک میرے نکاح میں تھیں، وفات کے 19 برس بعد پاپ گلوکارہ کے شوہر منظر عام پر

ویب ڈیسک – نازیہ حسن پاکستان کی میوزیکل انڈسٹری کا ایک تابناک نام تھا، مگر نازیہ حسن 35 سال کی عمر میں ہی کینسر جیسے موذی مرض سے زندگی کی جنگ ہار گئیں اور خالق حقیقی جا ملیں۔ ناذیہ حسن کی وفات سے قبل یہ قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں کہ نازیہ کو ان کے شوہر مرزا اشتیاق بیگ نے طلاق دے دی تھی۔ تاہم اب 19 برس بعد مرزا اشتیاق بیگ نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ایک بین الاقوامی جریدے کو پہلی بار انٹرویو دیتے ہوئے مرحومہ نازیہ حسن کے شوہر مرزا اشتیاق بیگ کا کہنا تھا کہ نازیہ بہت پیار کرنے والی بیوی تھی اور میں نے انہیں طلاق نہیں دی تھی اور وہ مرتے دم تک میرے نکاح میں تھی۔ اس بات کا ثبوت میرے پاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان کچھ غلط فہمیاں تھی ، نازیہ کی والدہ کو لگتا تھا کہ میں ان کا فنی کیرئیر ختم کروانا چاہتا ہوں لیکن ایسا کچھ نہیں تھا۔ مرزا اشتیاق نے انکشاف کیا کہ نازیہ کو کینسر 1992 میں بھی تشخیص ہوا تھا۔ نازیہ جانتی تھیں کہ وہ زیادہ عرصہ زندہ نہیں رہیں گی۔ نازیہ ماں بننا چاہتی تھیں اور ہمارا ایک بیٹا بھی پیدا ہوا جس کا نام اریض رکھا گیا۔

انہوں نے کہا میری اور نازیہ حسن کی محبت کی شادی تھی، نازیہ میری بہن آفرین بیگ کی دوست تھیں، ہم ایک دوسرے کو دل و جان سے پسند کرتے تھے۔ اتنا ضرور ہے کہ نازیہ کے گھر والوں اور میرے درمیان اختلافات کی بہت سی وجوہات تھیں۔

اشتیاق بیگ نے انٹرویو میں بتایا کہ نازیہ حسن اور ان کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں پھیلائی گئی تھیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا تعلق کامیاب نہیں ہو سکا تھا، یہ بھی کہا گیا کہ نازیہ کی موت سے دس روز پہلے طلاق ہو گئی تھی۔ میں نے آج تک نازیہ کو طلاق دینے کی حقیقت سے پردہ نہیں اٹھایا کیونکہ نازیہ کا انتقال ہو چکا تھا۔نازیہ ایک نہایت اچھی بیوی اور ذمہ دار خاتون تھیں۔