احتساب عدالت میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر فرد جرم عائد، باپ بیٹے کا اگلا ٹھکانہ جیل ہو گی؟

ویب ڈیسک – صدر مسلم لیگ ن اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز پر آشیانہ ہاوٴسنگ سکینڈل اور رمضان شوگر مل ریفرنس میں اختیارات کے ناجائز استعمال پر فرد جرم عائد کر دی گئی، ملزمان کا صحت جرم ماننے سے انکار، عدالت نے شہباز شریف کو سیاسی تقریر کرنے سے منع کر دیا۔ دونوں باپ بیٹا قومی اور صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق آج اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی حمزہ شہباز احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ اس  موقع پر احتساب عدالت کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ، نگرانی میں 500 سے زائد اہلکار تعینات تھے۔ احتساب عدالت کے باہر خواتین اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا۔

کیس کی سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا رمضان شوگر ملز کیس میں مل کے لئے سرکاری خزانے سے نالہ بنایا گیا،یہ اختیارات سے تجاوز کا کیس ہے، نیب پراسیکیوٹر نےعدالت کو بتا یا کہ آج رمضان شوگر ملز میں فرد جرم عائد ہونا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا اس کیس میں الزامات کیا ہیں؟ جس پر نیب کے پراسیکیوٹر نے بتایا کے رمضان شوگر مل کا نالہ عوامی پیسے سے بنایا گیا جس کے لئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گا۔

اس موقع پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو عدالت نے انہیں روک دیا، شہباز شریف نے کہا اللہ جانتا ہے میں نے 2300 ارب روپے بچائے۔ میں نے اس نالے میں کچھ غلط نہیں کیا۔ پیسے کا کوئی غلط استمعال نہیں ہوا۔ شہباز شریف نے کہا میں نے 10 سالوں میں کئی سو ارب روپے بچائے ہیں حکومت کے،کیا میں نے نالے کے لئے سرکاری خزانہ استعمال کرنا تھا؟

اس پر عدالت نے صدر مسلم لیگ ن کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ  آپ کو سب کچھ کہنے اور سنانے کا موقع دیا جائے گا۔یہ قانونی اور پروسیجرل چیزیں ہیں جو قانون کے مطابق ہونی ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر نے بتایا شہباز شریف پر رمضان شوگر ملز کےلئے پبلک فنڈزکے غلط استمعال کاالزام ہے

عدالت نے کہا ابھی آپ پر الزام ہے، جسے ثابت ہونا باقی ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر گواہوں کوشہادتوں کے لئے طلب کر لیاہے۔