شریف فیملی کا مبینہ فرنٹ مین لاہور کی احتساب عدالت میں پیش

ویب ڈیسک: شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سلمان شہباز کے اکاونٹ میں 50 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز کرنے والے ملزم محمد مشتاق کو احتساب عدالت میں پیش کر دیا گیاہے۔نیب حکام کے مطابق حمزہ شہباز کی ماڈل ٹاؤن میں گرفتاری کے موقع پر مشتاق انڈر گراؤنڈ ہوگیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق نیب ٹیم نے روزشریف فیملی کے مبینہ فرنٹ مین محمد مشتاق کو لاہور ائرپورٹ سے گرفتار کیا گیا ۔ محمد مشتاق کا نام نیب کی درخواست پر ای سی ایل میں شامل کیا گیا تھا ۔محمد مشتاق لاہور سے دبئی فرار ہونے کی کوشش میں گرفتار کیا گیا ۔محمد مشتاق پی آئی اے کی پرواز 203سے لاہور سے دبئی روانہ ہو رہا تھا۔ محمد مشتاق شریف فیملی کا فرنٹ مین ہے۔ محمد مشتاق50کروڑ کی مبینہ ٹرانزیکشنز کیں۔یادرہے 6اپریل کو خبر سامنے آئی تھی کہ شریف فیملی کے گرفتار ملازمین نے بیرون ملک بھاری رقم منتقل کرنے کا انکشاف کیا ہے۔

ذرائع نے بتایا تھا کہ شریف فیملی کے گرفتار سہولت کاروں سے کی جانے والے تفتیش میں پیش رفت ہوئی ہے۔ شریف فیملی کے ملازمین نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے بیرون ملک پیسہ منتقل کرنے کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا۔محمد مشتاق کی گرفتاری سے متعلق نیب کی طرف سے اعلامیہ بھی جاری کیا گیا ۔ نیب اعلامیے میں کہا گیا کہ محمد مشتاق کا نام نیب کی سفارش پر ای سی ایل پر ڈالا گیا تھا۔ محمد مشتاق نے حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے فرنٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے مبینہ طور پر لگ بھگ 50کروڑ روپے ابتدائی طور پر اپنے اور بعدازاں سلمان شہباز کے اکاوئنٹ میں منتقل کیے۔