امریکہ میں لوگوں کو گاڑی سے کچلنے کا منصوبہ ناکام، ملزم گرفتار

ویب ڈیسک: سکیورٹی فورسز نے امریکہ میں لوگوں کو گاڑی سے کچلنے کا منصوبہ ناکام بنا کر ایک امریکی شہری کو گرفتار کرلیا ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ کسینیو کمپلیکس کے قریب ہجوم کو گاڑی سے نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والا امریکی شہری دہشت گرد گروپ داعش سے متاثر لگتا ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملزم اپنے ہدف کی تلاش میں گاڑی لے کر واشنگٹن کے مختلف مقامات پر گیا تھا۔خبررساں ادارے نے امریکی سیکیورٹی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ گرفتار 28 سالہ رونڈیل ہنری کمپیوٹر انجینئر ہے۔

سیکیورٹی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ اس کے ذہن میں فرانس جیسے حملے کا منصوبہ تھا۔2016 میں فرانس کے شہر نیس میں بیسٹل میں ایک تہوار کے موقع پر تیونس سے تعلق رکھنے والے حملہ آورنے ٹرک لوگوں پر چڑھا دیا تھا جس سے 84 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔پولیس نے تیونس سے تعلق رکھنے والے 31 سالہ حملہ آور کو گولی مار کرہلاک کردیا تھا۔اپریل 2017 میں سوئیڈن کے شہر اسٹاک ہوم کی ایک سڑک پر ازبک حملہ آور نے ٹرک سے چار لوگوں کو روند دیا تھا۔
جون 2017 میں برطانیہ کے لندن برج پر حملہ آور نے پیدل چلنے والوں پر وین چڑھانے کی کوشش کی تھی اور اس کے بعد وین سے کود کر پاس بورو مارکیٹ کے نائٹ کلب کے باہر لوگوں پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔اس دہشت گردی کے باعث سات افراد جان سے گئے تھے اور 48 زخمی ہوئے تھے۔ پولیس نے تین مشتبہ حملہ آوروں کو گولی ماردی تھی۔لندن کی فنزبری پارک مسجد سے نکلنے والے نمازیوں کو وین سے کچلنے کی کوشش میں ایک شخص جان سے گیا اور گیارہ زخمی ہوگئے تھے۔ یہ واقعہ بھی جون میں وقوع پذیر ہوا تھا۔اگست 2017 میں بارسلونا کے سیاحتی مقام پر ایک شخص نے وین بھیڑ میں لوگوں پر چڑھادی تھی جس میں 13 افراد جان سے گئے تھے اور 100 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔اگست 2017 ہی میں بارسلونا سے 100 کلومیٹر دور کیمبرلس میں پانچ حملہ آوروں نے پیدل چلنے والوں کو آئیوڈی گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی تھی جس میں ایک شخص ہلاک ہو گیا تھا۔دسمبر 2016 میں جرمنی کے شہر برلن کی کرسمس مارکیٹ میں ایک تیونسی حملہ آور نے ٹریکٹر ٹریلر سے 12 افراد کو روند ڈالا تھا۔24 سالہ حملہ آور انیس امیری کو چار روز بعد اٹلی کے شہر میلان میں پولیس نے فائرنگ کرکے ہلاک کیا تھا۔