انصاف کا شعبہ پارلیمان کی ترجیحات میں نہیں، پاکستان کے جج جتنا کام کر رہے ہیں اتنا دنیا میں کوئی نہیں کرتا: چیف جسٹس

ویب ڈیسک ۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے جج جتنا کام کرتے ہیں پوری دنیا میں کوئی نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ  جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کیلئے سفارشات اور ترامیم پارلیمنٹ میں پیش نہیں کی گئیں، بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمان کی ترجیحات میں نہیں ہے۔

تفصیلات کے مطابق  فوری انصاف کی فراہمی سے متعلق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے انصاف کا شعبہ پارلیمینٹ کی ترجیحات میں نہیں ہے اور جوڈیشل پالیسی بہتر بنانے کیلئے سفارشات اور ترامیم کو پارلیمنٹ میں پیش نہیں نہیں کیا گیا، جب سے جج بنا ہوں،میرا مقصد فوری انصاف کی فراہمی رہا ہے اور یہ عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ  ریاست کی ذمہ داری ہے کہ سستا اور فوری انصاف فراہم کرے،ماضی میں فیصلوں میں تاخیر کم کرنے کیلئے کئی تجربات کیے گئےکبھی قانون میں ترمیم کبھی ڈو مور کی تجویز دی گئی،  عدلیہ کے 3 ہزار ججز نے گزشتہ سال 34 لاکھ مقدمات کے فیصلے کیے، ججز کو ڈو مور کا نہیں نہ سکتے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ ماڈل کورٹس ایک مشن کے تحت قائم کی گئی ہیں، ماڈل کورٹس کا تجربہ آئین کے آرٹیکل 37 ڈی پر عمل درآمد کرنا ہے، ان کا مقصد مقدمات کے التوا کا باعث بننے والی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔