کراچی میں ڈاکووٴں سے مقابلے میں ڈیڑھ سالہ بچہ پولیس کی گولی لگنے سے جاں بحق

ویب ڈیسک – کراچی پولیس کی ایک غیر ذمہ دارانہ کارروائی نے ننھے فرشتے ڈیڑھ سالہ احسن کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔ ونیورسٹی روڈ پر پولیس اور ملزموں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں رکشے میں سوار احسن پولیس کی گولی کا نشانہ بن گیا۔

تفصیلات کے مطابق 19 ماہ احسن اپنے والدین کے ہمراہ رکشے میں سوار جا رہا تھا کہ یونیورسٹی روڈ پر پولیس اور ڈاکووٴں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ اسی دوران ایک گولی والدین کی گود میں بیٹھے ڈیڑھ سالہ احسن کے سینے میں پیوست ہو ئی اور کمر سے نکل گئی،  بچے کے والد کے مطابق پولیس کی جانب سے چلائی گئی گولی لگی۔

ننھے احسن کو فوری طور پر طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم ہو زخموں تاب نہ لاتے ہوئے ننھا احسن زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بچے کی موت کی خبر سن کر احسن کے والدین غم سے نڈھال ہو گئے۔

ڈی آئی جی ایسٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے بچے کی ہلاکت کے واقعے میں ملوث اہلکاروں کی شناخت کر لی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں اہلکاروں کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے تاکہ شواہد سامنے آئیں۔ موٹر سائیکل سوار اہلکار کسی کی نشاندہی پر مبینہ ڈاکوؤں کا پیچھا کر رہے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل رواں ماہ 6 اپریل کو قائد آبد میں 12 سالہ سجاد پولیس کی گولی کا شکار ہوا۔ اس سے قبل فروری کے مہینے میں میڈیکل طلبہ نمرہ پولیس کی گولی کی زد میں آ گئی تھی۔ اگست 2018ء میں ننھی امل کو پولیس کی گولیوں نے موت کی نیند سلا دیا۔ شاہراہ فیصل پر پولیس اہلکار کی فائرنگ سے نوجوان مقصود زندگی کی بازی ہار گیا تھا۔ ڈیفنس میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان انتظار کی زندگی تمام ہوئی تھی۔

کراچی پولیس کی غیرذمہ درانہ کارروائیوں میں جرائم پیشہ افراد کو تو کوئی گزند نہیں پہنچتا تاہم شہریوں کی ہلاکتوں میں بڑھتی تعداد نے سندھ پولیس اور صوبائی حکومت کی کاکردگی پر کئی سوالیہ نشانات اٹھا دیئے ہیں۔