آشیانہ ہاﺅسنگ سکیم فراڈ کیس میں شہباز شریف کی ضمانت، سپریم کورٹ کا لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں پر شدید اعتراضات

ویب ڈیسک – آشیانہ ہاوٴسنگ سکیم فراڈ سکینڈل میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی ضمانت کے فصیلے کے کیس کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوئی۔ کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی جبکہ نیب کی جانب سے معروف قانون دان نعیم بخاری بطور وکیل پیش ہوئے۔

کیس کی سماعت کے دوران نیب کے وکیل نعیم بخاری نے کہا کہ ضمانت کے مقدمات میں سپریم کورٹ کے واضح فیصلے موجود ہیں، سپریم کورٹ کہہ چکی ضمانت کا فیصلہ مختصر ہونا چاہیے، لیکن لاہورہائیکورٹ نے شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے تمام میرٹس پر فیصلہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ آشیانہ ہاوٴسنگ سکیم  فراڈ کا نقشہ شہباز شریف نے بنایا تھا جس نے احد چیمہ کے ساتھ مل کر غیر قانونی طریقے سے منصوبے کا ٹھیکہ پیراگون کو دیا جبکہ  پیراگون کے ندیم ضیاء اور کامران کیانی مفرور ہیں۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نےنیب کے وکیل نعیم بخاری سے کہا کہ آپ کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے ضمانت میں شہباز شریف کے تمام فیصلے درست قرار دیے.جس کے جواب میں نعیم بخارینے کہ جی ہاں اگر یہ فیصلہ رہا تو ٹرائل کورٹ پھر کیا کرے گی، ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا

نعیم بخاری کا موقف تھا کہ عدالتی فیصلے سے ٹرائل بری طرح متاثر ہوگا‘جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائی کورٹ نے ضمانت کے کیس میں الزامات ہی مسترد کردیے، ہائی کورٹ نے قرار دیا تمام ٹھیکے میرٹ پر دیئے گئے.عدالت نے شہباز شریف اور فواد حسن فواد کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 2 مئی تک ملتوی کردی ۔