کراچی میں غلط انجیکشن لگنے سے ہلاک ہونے والی لڑکی سے موت سے پہلے زیادتی ہوئی، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف

ویب ڈیسک ۔ دو روز قبل کراچی کے علاقے کورنگی کے سرکاری ہسپتال میں دانت درد کے انجیکشن سے ہلاک ہونے والی 22 سالہ لڑکی عصمت کے کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ عصمت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زیادتی کا انکشاف ہو گیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کورنگی کے سندھ گورنمنٹ ہسپتال میں دو روز قبل عصمت نامہ لڑکی دانت درد کی شکایت لگائی جسے درد کش انجیکشن دیا گیا جس سے لڑکی کی موت واقع ہو گئی۔ لڑکی کے والدین کے احتجاج کے بعد لڑکی کا پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں انکشاف ہوا ہے کہ لڑکی کے ساتھ اس کی موت سے پہلے زیادتی کی گئی بعد میں عصمت کوزہریلا انجیکشن لگا کر قتل کردیا گیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد  لڑکی کو انجیکشن لگانے والے ڈاکٹر ایاز  کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔ عوامی کالونی پولیس نے ڈاکٹر اور کمپاؤنڈر کے خلاف لڑکی کی ہلاکت کا مقدمہ درج کیا ہے، تاہم مقدمے میں ابھی زیادتی اور قتل کی دفعات شامل نہیں ہیں۔

موت کے بعد استعمال ہونے والی سرنج اور بچا ہوا انجکشن بھی غائب کر دیا گیا۔ لڑکی 7 ماہ قبل ہسپتال میں قائم ٹی بی کنٹرول پروگرام میں کام کرتی تھی۔