بلاول بھٹو صاحبہ کی طرح پرچی پر نہیں آیا، عمران خان نے وزیرستان کے جلسے میں بلاول کو “صاحبہ” کہہ دیا، پختونوں کا شور

ویب ڈیسک – ایران کے دورے پر شدید تنقید کے بعد حکومت اراکین اور خود وزیراعظم بھی اب اپوزیشن کو جواب دینے نکل آئے ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں ہو رہے جلسے میں وزیراعظم عمران خان نے چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو پر طنز کے تیر برسائے۔

وزیرستان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جو شخص محنت کر کے اوپر آتا ہے تو اللہ اس کو طاقت عطا کر دیتا ہے۔ اس موقع پر عمران خان نے بلاول بھٹو کو “صاحبہ” کہہ کر پکارا، وزیراعظم کے اس جملے پر جلسہ گاہ میں شور مچ گیا اور لوگ خوب محظوظ ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ  میں یہاں لمبی جدو جہد کے بعد یہاں تک پہنچا ہوں، میری زندگی مقابلہ کرتے گزری ہے، جو لمبی جدوجہد کرکے اوپر آتا ہے اس کو کوئی خوف نہیں ہوتا، میں بلاول بھٹو صاحبہ کی طرح پرچی پر نہیں آیا، یہ سب چاہتے ہیں کہ عمران خان پر زور ڈال کر این آراو لیا جائے، میرا اقتدار میں آنے کا مقصد صرف ان کرپٹ عناصر کو شکست دینا تھا، میں نہ ان کو این آر او دوں گا اور نہ معاف کروں گا۔

 

یاد رہے کہ  کالعدم تحریک طالبان پاکستان  نے جنوبی وزیرستان میں پمفلٹ تقسیم کیے ہیں جن میں پولیس اور لیوزی کو  3 دن میں قبائلی علاقہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پمفلٹ میں مقامی افراد کو سرکاری حکام سے قطع تعلق کے لیے بھی کہا گیا ہے۔

تقسیم کئے گئے پمفلٹس میں اردو زبان میں پیغام دیا گیا ہے کہ “پولیس کو لازمی طور پر وانا اور محسود قبائل کے علاقے چھوڑ دینے چاہیے بصورت دیگر وہ (ٹی ٹی پی) ان کے خلاف طاقت کا استعمال کرے گی،  کہ پولیس افسران کو کچھ روز کے لیے وانا میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی، پمفلٹ میں بتایا گیا کہ ‘ہم نے ایک پولیس اہلکار(طاہر داوڑ) کو اسلام آباد سے اغوا کیا کیوں کہ اس نے ہمارے انتباہ کو نظر انداز کیا تھا’۔”

عمران خان کی وزیرستان آمد سے قبل طالبان کی دھمکی، پولیس اور لیویز کو 3 دن میں علاقہ چھوڑنے کا حکم

تحریک طالبان کی جانب سے دھمکی آمیز پمفلٹ تقسیم کئے جانے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے۔  دوسری طرف وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر اجمل خان وزیر نے ان دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا کہ پمفلٹ کے ذریعے لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کی گئی ہے۔