عوام کی موجیں ختم، موبائل کارڈ پر تمام ٹیکس بحال، اب 100 پر 100 کا بیلنس نہیں ملے گا: سپریم کورٹ کا حکم

ویب ڈیسک – موبائل استعمال کرنے والی عوام کی موجیں ختم ہو گئیں، اب 100 کا کارڈ لوڈ کرنے پر 100 کا بیلنس نہیں ملے گا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے موبائل بیلنس پر تمام ٹیکس بحال کر دیئے۔

تفصیلات کے مطابق  آج موبائل فون کارڈز پر عائد ٹیکس سے متعلق سپریم کورٹ رجسٹری میں سماعت ہوئی۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس اعجازالاحسن نے کہا اس مقدمے میں ایسے شہریوں سے ٹیکس لیا جا رہا تھا جو انکم ٹیکس کے دائرے میں نہیں آتے۔تیرہ لاکھ شہری ٹیکس دہندہ ہیں جبکہ دو کروڑ سے زائد شہریوں سے موبائل ٹیکس لیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ٹیکس دینے کی صلاحیت نہ رکھنے والوں سے انکم ٹیکس لینا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اس پر اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ انکم ٹیکس کا قانون بنانے والا غیر ملکی تھا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم آپ کی دلیل سے متفق نہیں ہوتے تو کیا چیپٹر 12 ختم ہو جائے گا؟  انہوں نے ریمارکس دیے کہ اس کا مطلب موبائل فون کمپنیاں اور صارفین سونے کا انڈہ دینے والی مرغیاں ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسفستار کیا کہ سپریم کورٹ کیا ہے؟۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب موبائل فون نہیں تھے تب آپکی آمدن کیسے ہوتی تھی؟۔اب لوگوں نے بات کرنے کا نیا طریقہ نکال لیا ہے تو آپ ان سے پیسے لیں گے؟۔اور اب سریم کورٹ نے موبائل فون  کارڈ پر تمام ٹیکسز کو بحال کر دیا جس کے بعد اب موبائل صارفین کو 100روپے کے بیلنس پر 100روپے نہیں ملے گا۔

یاد رہے کہ پچھلی دور حکومت میں اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے موبائل کارڈز پر لگے تمام ٹیکس ختم کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد ایک طویل عرصہ تک موبائل صارفین کو 100 روپے کے بیلنس پر 100 روپے ملتے تھے۔