اسد عمر مان گئے؟ سیاہ لباس پہنے ایسی کرسی پر بیٹھ گئے کہ اسمبلی میں سب حیران رہ گئے

ویب ڈیسک – وزارت سے استعفیٰ  دینے کے بعد اسد عمر نہ صرف اپنی پارٹی سے روٹھے محسوس ہو رہے تھے بلکہ وہ اپنے دیرینہ دوست اور وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بھی کچھ خفا خفا دکھائی دیتے تھے۔ جبکہ وزارت چھوڑنے کے بعد اسد عمر نے اشاروں کناروں میں پارٹی سیاست کی بات کی اور ساتھ ہی مستقبل میں کوئی بھی وزارت لینے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اسد عمر کے جانے سے کچھ پریشان تھے اور انہیں منانے کے لئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار نظر آتے تھے۔ تاہم آج اسد عمر کی قومی اسمبلی آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے دوست کو منانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

جو وزیر ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہو گا، اسے بدل دوں گا: وزیراعظم عمران خان

نجی ٹی وی کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسد عمر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پارلیمنٹ ہاﺅس پہنچ گئے ،اسد عمر ایوان میں وزرا کیلئے مختص نشست پر براجمان ہیں ۔اسد عمر وزیر زانہ کیلئے مقررہ کردہ نشست پر بیٹھے ہیں ،سابق وزیرخزانہ نے سیاہ لباس زیب تن کرکرکھا ہے ۔

اسد عمر نے آج نہ صرف ایوان میں شرکت کی بلکہ پارٹی پالیسی اور وزارتوں میں تبدیلیوں کا بھرپور دفاع کیا اور دو دن سے گرجنے والی اپوزیشن کو ٹف ٹائم دیا۔ اسد عمر نے چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کو بھی کھری کھری سنائیں۔

یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے  پچھلے ہفتے وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر ردوبدل کیا جس کے تحت فواد چوہدری ، غلام سرور اور اسد عمر کی وزارتیں تبیل کر دی گئی تھیں لیکن اسد عمر نے کوئی اور وزارت لینے سے انکار کرتے ہوئے  کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا۔