نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے پھر دل جیت لئے، کرائسٹ چرچ حملوں میں متاثرہ لوگوں کو مستقل رہائش دینے کا اعلان

ویب ڈیسک – رواں برس  نیوزی لینڈ کی سرزمین نے اپنی تاریخ کی بدترین دہشت گری دیکھی جب ایک سفید فام شخص نے کرائسٹ چرچ کی مسجد میں گھس کر فارئنگ کر دی جس سے کئی مسلمان شہید ہو گئے تھے۔

دہشت گردی کےحملوں کے بعد نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا ارڈرن نے ایک مثالی کردار پیش کیا اور نہ صرف حملوں کی مذمت کی بلکہ مسلمانوں کے ساتھ اس طرح اظہار یکجہتی کی کہ سب ان کے گرویدہ ہو گئے۔ اب نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے دنیا بھر کے لوگوں کے دل جیت لینے والا ایک اور قدم اٹھا لیا ہے۔ نیوزی لینڈنے بدھ کے روزدوسال کیلئے ونڈوکھول دی ہے۔

جس کامقصدکرائسٹ چرچ دہشتگردحملوں سے براہ راست متاثرہونے والے لوگ ملک میں مستقل قیام کیلئے درخواست دے سکتے ہیں ۔

نیوزی لینڈ کی میڈیا کے مطابق اس  ویزاکٹگری کامقصدان لوگوں کی زندگیوں پرپڑنے والے اثرات کوتسلیم کرناہے ،جوسب سے زیادہ متاثرہوئے ہیں اورایسے افرادجوعارضی طورپریہاں مقیم ہیں ،انہیں ان کی حیثیت سے متعلق رہائشی ویزے جاری کئے جائیں۔

یاد رہے کہ  گزشتہ ماہ کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے وقت سفید فام دہشت گرد کی فائرنگ سے 50 نمازی شہید اور 39 زخمی ہوگئے تھے۔ گرفتار 28 سالہ آسٹریلوی حملہ آور برینٹن ٹیرینٹ پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے۔