سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھتا ہوں، آپ کو ایمپائر کی “انگلی” پسند آئی؟ بلاول بھٹو کی پریس کانفرنس میں اخلاق سے گری گفتگو

ویب ڈیسک – چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو اور وزیراعظم عمران خان کے درمیان لفظی جنگ میں تیزی آتی جا رہی ہے جس میں دونوں جانب سے ہی اخلاقی حدود کو پھیلانگا جا رہا ہے۔ گزشتہ روز عمران خان کی جانب سے جلسے میں بلاول بھٹو کو صاحبہ کہنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا تاہم آج بلاول بھٹو نے اس کا حساب برابر کرتے ہوئے وزیراعظم کو اخلاق سے گری ہو ئی بات کہہ دی۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے وہوئے بلاول بھٹو نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں سلیکٹڈ وزیراعظم سے پوچھتا ہو ں کہ کیا آپ کو ایمپائر کی “انگلی” پسند آئی؟ بلاول بھٹو کی اس ذو معنی غیر اخلاقی گفتگو پر وہاں موجود تمام افراد نے زور زور سے قہقہے لگانے شروع کر دئے۔

بلاول نے  خود کو صاحبہ کہے جانے پر مزید کہا کہ  اس طرح کی بات کرنے سے عمران خان اپنا قد چھوٹا کرتے ہیں، وزیراعظم پاکستان کہہ رہا ہے کہ عورت ہونا گالی ہے، اپنے عہدے اور ملک کا ہی احترام کریں، اپنی زبان پر قابو کریں۔

 

تعجب کی بات تو یہ رہی کہ کل بلاول کو صاحبہ کہنے پر واویلا مچانے والا میڈیا اور اینکر برادری بلاول غیر اخلاقی گفتگو پر گونگی ہوچکی ہے۔

بلاول نے اپنی پریس کانفرنس میں خبردار کیا کہ اگر ملک میں اگر ون یونٹ یا صدارتی نظام نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک ٹوٹے گا۔

 انہوں نے کہا کہ عوام مہنگائی کے سونامی میں ڈوب رہے ہیں، مہنگائی کی وجہ سے پاکستانیوں کی زندگی تنگ ہوتی جا رہی ہے، یہ کیسی حکومت ہے جس کا وزیرخزانہ کہتاہے ہماری پالیسیوں سے عوام کی چیخیں نکلیں گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم حکومت کو 18 ویں ترمیم اور جمہوری نظام کو چھیڑنے نہیں دیں گے۔ ملک کی معاشی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ عوام کا کام حکومت کو ریلیف پہنچانا ہے جب کہ آئی ایم سے قرضہ لینے کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔