لاڑکانہ: ایڈز میں مبتلا درندہ صفت ڈاکٹر نے 25بچوں سمیت45 افرادکو ایڈز کے انجیکشن لگا دیئے

ویب ڈیسک – اندرون سندھ کے شہر لاڑکانہ میں پیش آئے واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا، خود ایڈز میں مبتلا ایک ڈاکٹر نے انتقاماً 25 بچوں سمیت 45 افراد ایڈز کے انجیکشن لگا کر موذی مرض میں مبتلا کر دیا۔ پولیس نے درندہ صف ڈاکٹر کو حراست میں لے لیا۔

تفصیلات کے مطابق بھٹو خاندان کے آبائی شہر میں ظالم درندہ صفت ڈاکٹر نے خود ایڈز میں مبتلا ہونے پر معاشرے سے انتقام لینے کی خاطر 45 افراد کو ایڈز کے جراثیم والے انجیکشن لگا دیئے، متاثرہ افراد میں 25 بچے بھی شامل ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ  کے مطابق ملزم ڈاکٹر مظفر خود ایڈز کی آخری سٹیج پر ہے۔

ڈپٹی کمشنراورمحکمہ صحت نے رتوڈیرو میں بچوں سمیت45سے زائد افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق کردی ہے ، ڈاکٹر کے خلاف ایف آئی آردرج کرکے پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا ہے اور کلینک کوسیل کردیاگیا ہے۔

رتوڈیرومیں ایچ آئی وی وائرس پھیلنےپرانتظامیہ اورمحکمہ صحت نےنوٹس لیا، ڈپٹی کمشنرنعمان صدیق کا کہنا ہے کہ متاثرمریضوں کا علاج حکومت کرائےگی، علاج کیلئے رتوڈیرو میں نیاسینٹر کل سے کام شروع کردے گا۔

ڈپٹی کمشنرلاڑکانہ نعمان صدیقی نےکے مطابق  علاقے سے بچوں کے ایڈز کے مریضوں کی بڑی تعداد سامنے آئی، تحقیقات کے دوران تمام کیسز میں ایک ہی ڈاکٹر اور کلینک کو ایڈز کیسز میں ملوث پایاگیا ۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر کو حراست میں لیاگیا ہے اور مزیدتحقیقات جاری ہیں، متاثرہ بچوں کےعلاج کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔