ن لیگ میں بغاوت شروع، خواجہ سعد رفیق پارٹی قیادت کے خلاف پھٹ پڑے

ویب ڈیسک – پارلیمنٹ میں دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن اس وقت شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے، مسلم لیگ ن کے قیادت کی جانب سے پراسرار خاموشی اور دارالحکومت میں گردش کرتی ڈیل کی افواہوں نے مسلم لیگ ن میں بغاوت کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔

آج مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی میں پائی جانے والی شدید بے چینی عیاں نظر آئی۔ ن لیگ کے اہم رہنما خواجہ سعد رفیق اپنی قیادت کے خلاف پھٹ پڑے اور شکوے و شکایتیں شروع کر دی۔

خواجہ سعد رفیق نے اجلاس میں کہا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی، کس کا بیانیہ آگے لر کر چلنا اور کس کا نہیں، آیا ہم نوازشریف کے بیانیے کو آگے بڑھائیں یا شہباز شریف کے، اس کے علاوہ مریم نواز کی خاموشی بھی پارٹی کارکنان اور رہنماوٴں کو بہت کچھ سوچے پر مجبور کر رہی ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے شکوہ کیا کہ ان کے مشکل حالات میں پارٹی قیادت نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

 

آج شب  پارلیمانی و ملکی سیاسی میں غیر فعال اور عدم دلچسپی مسلم لیگ کی پارلیمانی کمیٹی نے صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف کو 2 اہم عہدوں سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی PAC کا چئیرمین رانا تنویر کو بنا دیا جبکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی شہباز شریف کو پارلیمنی لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر خواجہ آصف کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مسلم لیگ ن اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ان دنوں لندن میں علاج کے لئے موجود ہیں اور بظاہر ان کا وطن واپسی کا کوئی امکان نہیں جس پر مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی میں شدید اضتراب پایا جاتا تھا اور ن لیگ کے اراکین اسمبلی پارٹی میٹنگز میں شکوے کرتے نظر آتے تھے، مسلم لیگ ن تحریک انصاف کے بعد سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں ناکام نظر آرہی ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی نے خود کو اصل اپوزیشن کا حقدار بنا ڈالا ہے۔

مسلم لیگ ن میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ، شہباز شریف فارغ، خواجہ آصف اور رانا تنویر بڑے عہدوں پر تعینات

ان سب صورتحال کے بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی نے آج بڑے فیصلے کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن سے 2 اہم عہدے لے کر نسبتاً فعال ممبران کو دے دیئے ہیں۔ رانا تنویر حسین کو چئیرمین پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کا چئیرمین بنا دیا گیا جبکہ خواجہ آصف کو پارلیمان لیڈر بنا دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ اس اکھاڑ پچھاڑ کی منظوری خود صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اور نوازشریف کی منظوری کے بعد دی گئی ہے۔ لیکن  اصل کہانی یہ ہے کہ لیگی قیادت خود حکومت کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے جبکہ دیگر ن لیگی رہنما کسی بھی قسم کی ڈویلپمنٹ سے بالکل لا علم رکھا جا رہا ہے جو کہ پارٹی کے اندر بغاوت کا سبب بن رہا ہے۔