ن لیگ والوں کو شک ہے کہ دونوں بھائی پارٹی کو بیوہ بنا کر ملک سے باہر چلے جائیں گے، ایسا ہوا تو پارٹی بکھر جائے گی نجم سیٹھی

ویب ڈیسک – سنئیر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے مسلم لیگ ن میں ہونے والی ممکنہ بغاوت کے حوالے سے کہا ہے کہ ن لیگ والوں کو ڈر ہے کہ کہیں دونوں بھائی ملک چھوڑ پر باہر نہ چلے جائیں، انہوں نے کہا کہ اگر شریف برادران نے پارٹی کو بیوہ بنا کر باہر جانے کا قدم اٹھا یا تو ن لیگ کے بہت سے لوگ پارٹی چھوڑ کر چلے جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی اور تجزیہ نگار نجم سیٹھی نے نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس وقت میاں برادران این آر او کے نتیجے میں ملک سے باہر گئے تو ان کی پارٹی بیوہ ہو جائے گی اور بہت سارے ارکان تتر بتر ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ  ایک بھائی باہر جائے اور ایک ملک کے اندر رہے،جیسے پارٹی سنبھالنے کے لیے ایک بھائی کا ملک کے اندر رہنا ضروری ہے ویسے ہی ایک بھائی کا ملک سے باہر رہنا بھی ضروری ہے کیونکہ حکومت کے ساتھ معاملات اسی بھائی نے کرنے ہیں جو ملک سے باہر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی پارلیمانی لیڈر اور اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کا جو فیصلہ  ہوا اس سے خواجہ سعد رفیق ناراض ہو گئے ہیں کہ بہت سارے ارکان کے ساتھ مشورہ نہیں کیا گیااور خود ہی فیصلہ کر لیا گیا ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ پارٹی کا سٹائل ہی یہ ہے کہ وہاں کچن کیبنٹ فیصلے ہوتے ہیں اور ایک دور میں خواجہ سعد رفیق بھی اس کچن کیبنٹ کا حصہ ہوتے تھے مگر آج کل وہ اس کیبنٹ سے باہر ہیں۔

 

سینئر صحافی نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میاں برادران این آر او تو کر لیں گے اور ملک سے باہر بھی چلے جائیں گے مگر اب کی بار ان کی پارٹی تقریباً ختم ہی ہو جائے گی۔

یاد رہے ک پارلیمنٹ میں دوسری بڑی جماعت مسلم لیگ ن اس وقت شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی ہے، مسلم لیگ ن کے قیادت کی جانب سے پراسرار خاموشی اور دارالحکومت میں گردش کرتی ڈیل کی افواہوں نے مسلم لیگ ن میں بغاوت کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔

آج مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پارٹی میں پائی جانے والی شدید بے چینی عیاں نظر آئی۔ ن لیگ کے اہم رہنما خواجہ سعد رفیق اپنی قیادت کے خلاف پھٹ پڑے اور شکوے و شکایتیں شروع کر دی۔

ن لیگ میں بغاوت شروع، خواجہ سعد رفیق پارٹی قیادت کے خلاف پھٹ پڑے

خواجہ سعد رفیق نے اجلاس میں کہا کہ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی، کس کا بیانیہ آگے لر کر چلنا اور کس کا نہیں، آیا ہم نوازشریف کے بیانیے کو آگے بڑھائیں یا شہباز شریف کے، اس کے علاوہ مریم نواز کی خاموشی بھی پارٹی کارکنان اور رہنماوٴں کو بہت کچھ سوچے پر مجبور کر رہی ہے۔

خواجہ سعد رفیق نے شکوہ کیا کہ ان کے مشکل حالات میں پارٹی قیادت نے انہیں تنہا چھوڑ دیا ہے۔

اس سے قبل پارلیمانی و ملکی سیاسی میں غیر فعال اور عدم دلچسپی مسلم لیگ کی پارلیمانی کمیٹی نے صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف کو 2 اہم عہدوں سے ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی PAC کا چئیرمین رانا تنویر کو بنا دیا جبکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی شہباز شریف کو پارلیمنی لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر خواجہ آصف کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مسلم لیگ ن اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ان دنوں لندن میں علاج کے لئے موجود ہیں اور بظاہر ان کا وطن واپسی کا کوئی امکان نہیں جس پر مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی میں شدید اضتراب پایا جاتا تھا اور ن لیگ کے اراکین اسمبلی پارٹی میٹنگز میں شکوے کرتے نظر آتے تھے، مسلم لیگ ن تحریک انصاف کے بعد سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں ناکام نظر آرہی ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی نے خود کو اصل اپوزیشن کا حقدار بنا ڈالا ہے۔

ان سب صورتحال کے بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی نے آج بڑے فیصلے کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن سے 2 اہم عہدے لے کر نسبتاً فعال ممبران کو دے دیئے ہیں۔ رانا تنویر حسین کو چئیرمین پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کا چئیرمین بنا دیا گیا جبکہ خواجہ آصف کو پارلیمان لیڈر بنا دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ اس اکھاڑ پچھاڑ کی منظوری خود صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اور نوازشریف کی منظوری کے بعد دی گئی ہے۔ لیکن  اصل کہانی یہ ہے کہ لیگی قیادت خود حکومت کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے جبکہ دیگر ن لیگی رہنما کسی بھی قسم کی ڈویلپمنٹ سے بالکل لا علم رکھا جا رہا ہے جو کہ پارٹی کے اندر بغاوت کا سبب بن رہا ہے۔