شہباز شریف پارٹی قیادت سے فارغ؟ مریم نواز کو ن لیگ میں بڑا عہدہ مل گیا، نوازشریف کی منظوری

ویب ڈیسک ۔ مریم نواز کا ن لیگ کی صدارت کی طرف پہلا قدم ، مسلم لیگ ن میں تنظیمی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی مریم نواز کو پارٹی کی نائب صدر کا عہدہ مل گیا۔ شہباز شریف نے لندن سے منظوری دے دی۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لندن سے ایک اعلامیہ جاری کیا ہے اعلامیے کے مطابق مریم نواز کو مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور شاہد خاقان عباسی کو سنئیر نائب صدر بنا دیا گیا ہے جبکہ مریم اورنگزیب کو سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان مقرر کیا گیا ہے۔

عہدیداروں کی تعیناتی پارٹی قائد نواز شریف اور پارٹی رہنماوں کی مشاورت ک بعد اعلان کیا گیا ہے،اعلامیے کے مطابق مرکزی اور صوبائی سطح پر موجود تنظیموں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ 16 نائب صدور مقرر کیے گئے ہیں۔

جبکہ سنئیر لیگی رہنما احسن اقبال کو جنرل سیکریٹری مقرر دیا گیا  ہے۔

مسلم لیگ ن میں بڑی اکھاڑ پچھاڑ، شہباز شریف فارغ، خواجہ آصف اور رانا تنویر بڑے عہدوں پر تعینات

خیال رہے کہ گزشتہ روزپارلیمانی و ملکی سیاسی میں غیر فعال اور عدم دلچسپی مسلم لیگ کی پارلیمانی کمیٹی نے صدر مسلم لیگ ن میاں شہباز شریف کو 2 اہم عہدوں سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی PAC کا چئیرمین رانا تنویر کو بنا دیا جبکہ پارلیمنٹ کے اندر بھی شہباز شریف کو پارلیمنی لیڈر کے عہدے سے ہٹا کر خواجہ آصف کو یہ عہدہ سونپ دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صدر مسلم لیگ ن اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ان دنوں لندن میں علاج کے لئے موجود ہیں اور بظاہر ان کا وطن واپسی کا کوئی امکان نہیں جس پر مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی میں شدید اضتراب پایا جاتا تھا اور ن لیگ کے اراکین اسمبلی پارٹی میٹنگز میں شکوے کرتے نظر آتے تھے، مسلم لیگ ن تحریک انصاف کے بعد سب سے بڑی جماعت ہونے کے باوجود حکومت کو ٹف ٹائم دینے میں ناکام نظر آرہی ہے جبکہ پیپلزپارٹی اور جے یو آئی نے خود کو اصل اپوزیشن کا حقدار بنا ڈالا ہے۔

ان سب صورتحال کے بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی کمیٹی نے آج بڑے فیصلے کرتے ہوئے صدر مسلم لیگ ن سے 2 اہم عہدے لے کر نسبتاً فعال ممبران کو دے دیئے ہیں۔ رانا تنویر حسین کو چئیرمین پبلک اکاوٴنٹس کمیٹی کا چئیرمین بنا دیا گیا جبکہ خواجہ آصف کو پارلیمان لیڈر بنا دیا گیا ہے۔ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ اس اکھاڑ پچھاڑ کی منظوری خود صدر مسلم لیگ ن شہباز شریف اور نوازشریف کی منظوری کے بعد دی گئی ہے۔ لیکن  اصل کہانی یہ ہے کہ لیگی قیادت خود حکومت کے ساتھ ڈیل کرنا چاہتی ہے جبکہ دیگر ن لیگی رہنما کسی بھی قسم کی ڈویلپمنٹ سے بالکل لا علم رکھا جا رہا ہے جو کہ پارٹی کے اندر بغاوت کا سبب بن رہا ہے۔