ایک چاند دیکھنے کیلئے 40 لاکھ خرچ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟ فواد چودھری

ویب ڈیسک – وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری کا کہنا ہے رمضان کا چاند دیکھنے پر رویت ہلال کمیٹی کے ایک اجلاس پر 36 سے 40 لاکھ خرچہ آتا، پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا، ایک چاند دیکھنے کے لئے اتنا خرچہ کرنا کہاں کی عقلمندی ہے؟

تفصیلات کے مطابق رویت ہلال کے لئے کمیٹی قائم کرنے کے حوالے سے رائے دی ہے ہر کسی کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں، کم ازکم چاند دیکھنے کا تو معاوضہ نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا میں ایسے معاملات رضا کارانہ ہوتے ہیں، رویت ہلال کمیٹی کے ممبران چاند تو رضاکارانہ دیکھ لیا کریں، چاند دیکھنے پر قومی خزانے سے بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ روز بھی فواد چودھری نے کہا تھا کہ یہ فیصلہ کہ ملک کیسے چلنا ہے مولانا پر نہیں چھوڑا جا سکتا، اس رو سے پاکستان کا قیام ہی عمل میں نہ آتا کیونکہ تمام بڑے علماء تو پاکستان کے قیام کے مخالف تھے اور جناح صاحب کو کافر آعظم کہتے تھے، آگے کا سفر مولویوں نے نہیں نوجوانوں نے کرنا ہے اور ٹیکنالوجی ہی قوم کو آگے لیجا سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پانچ رکنی کمیٹی قائم کی ہے جس میں سپارکو،محکمہ موسمیات اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے ماھرین شامل ہوں گے یہ کمیٹی اگلے دس سال کے چاند، عیدین ، محرم اور رمضان سمیت دیگر اہم کیلنڈر کی تاریخ کا کیلنڈر جاری کرےگی۔ اس سے ہر سال پیدا ہونیوالا تنازعہ ختم ہو گا۔

یاد رہے کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی پاکستان میں رمضان کے 2 چاند نظر آئیں گے، ملک بھر کی رویت ہلال کمیٹی کو چاند کی کوئی شہادت نہ ملی جس کے بعد پہلا روزہ کل بروز منگل ہو گا جبکہ پشاور اور کے پی کے کے کئی علاقوں میں آج پہلا روز ہو گیا ہے۔