اسد عمر بے قصور، ڈالر کا ریٹ کس نے جان بوجھ کر بڑھایا؟ میڈیا اندر کی کہانی لے آیا

ویب ڈیسک – تحریک انصاف کے پہلے وزیرخزانہ اسد عمر کو کئی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا ان وجوہات میں سے ایک اہم وجہ ڈالر کی بے قابو ہوتی قیمت بھی تھی، خود وزیراعظم عمران خان کو بھی روپے کی بے قدری پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔  تاہم اب خبریں سامنے آئی ہیں کہ اس سارے معاملے میں اسد عمر بالکل بے قصور تھے۔

تفصیلات کے مطابق روپے کی بے قدری اور ڈالر کا ریٹ بڑھانے میں سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ ملوث نکلے جس کے باعث انہیں عہدے سے بھی ہٹا دیا گیا۔  طارق باجوہ حکومتی احکامات میں پر عملدرآمد میں بار بار رکاوٹ بنتے رہے ۔اقتصادی معاملات سے متعلق وزیراعظم کے احکامات کو بھی نظر انداز کیا گیا ۔کاروباری افراد کے واجبات کی ادائیگی کے واؤچر جاری کری کرنے سے بھی انکار کیا تھا ۔ 400ارب روپے کے واؤچر جاری کرنے کی منظوری وفاقی کابینہ نے دی تھی ۔

طارق باجوہ اہم معلومات لیک ہونے میں بھی ملوث تھے ۔طارق باجوہ کو ہٹانے پر ن لیگ کی ماروی میمن نے بھی ٹویٹ کیا تھا ۔ماروی میمن نے ٹویٹ میں لکھا تھا کہ امید ہے اب لندن کو خبریں لیک نہیں ہوں گی ۔سابق گورنر سٹیٹ بینک طارق باجوہ مفرور اسحاق ڈار کے بہت قریب تھے ۔ طارق باجوہ نے حکومت کو بغیر بتائے روپے کی قدر کم کی ۔وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا ڈالر کی قدر میں اضافے کا ٹی وی سے علم ہوا۔ طارق باجوہ نے پاکستان بناؤ سرٹیفیکٹ کے اجرا کے روز شرح سود بڑھا دی تھی ۔طارق باجوہ کے اقدام پر وزیراعظم عمران خان ،وزرا نے اظہار ناراضگی کیا تھا ۔طارق باجوہ نے 2013 میں پارلیمنٹ کو غلط اعدادو شمار پر مبنی سمری بھیجی ۔

سمری میں بتایا گیا سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200ارب ڈالر موجود ہیں۔2014 میں دھرنے کے دوران سوئس حکام سے رقم کی معلومات کے لئے رابطہ کیا گیا ۔سابق چیرمین ایف بی آر طارق باجوہ کی قیادت میں ٹیم تشکیل دی گئی تھی ۔طارق باجوہ نے سوئٹزر لینڈ نہ جانے کا ملبہ دھرنے پر ڈال دیا تھا ۔جونیئر افسر سوئٹزر لینڈ جا سکتا تھا تو طارق باجوہ کے جانے میں کیا رکاوٹ تھی ؟جونیئر نے معاہدہ طے کیا طارق باجوہ نے اسحاق ڈار کو خط لیھا ابھی نہیں کر سکتے ۔نوٹس میں لکھا آپ کس حیثیت سے سوئٹزر لینڈ گئے اور انکوئری کرائی گئی ۔

اگر اس خبر کے تناظر میں دیکھا جائے تو سابق وزیرخزانہ اس عمر بالکل بے قصور نظر آتے ہیں، اسد عمر نے ملکی معشیت کو ٹریک پر لانے کی بے حد کوشش کی تاہم حکومتی معاملات کا تجربہ نہ ہونے کی وجہ سے اسد عمر کئی ایسے معاملات کو سمجھ نہ جس کی وجہ سے انہیں نہ صرف اپنے وزارت سے ہاتھ دھونا پڑے بلکہ تحریک انصاف کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اسد عمر سے شدید مایوس بھی ہوئی۔