نوازشریف افطاری کے بعد جیل جائیں گے، 6 بجے کے بعد کوئی قیدی نہیں لیا جائے گا، ن لیگ اور جیل انتظامیہ میں ٹھن گئی

ویب ڈیسک – مسلم لیگ ن اور کوٹ لکھپت جیل انتظامیہ میں نوازشریف کی واپس حوالگی کے ایشو پر ٹھن گئی ہے۔ ن لیگ نوازشریف کو افطاری کے بعد جلوس کی شکل میں کوٹ لکھپت جیل چھوڑ کر آنا چاہتی ہے جبکہ جیل انتظامیہ نے دوٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ 6 بجے کے بعد انتظامیہ کوئی قیدی وصول نہیں کرے گی۔

تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ ن کے تا حیات قائد نوازشریف آج سپریم کورٹ کی جانب سے طبی بنیادوں پر دی گئی 6 ہفتوں کی ضمانت ختم ہونے کے بعد واپس کوٹ لکھپت جیل جائیں گے۔ اس حوالے سے مسلم لیگ ن اور کوٹ لکھپت جیل کی انتظامیہ آمنے سامنے آگئے ہیں۔ مسلم لیگ ن نے اعلان کیا ہے کہ نوازشریف کو ایک جلوس کی شکل میں بعد از افطار جیل روانہ کیا جائے گا۔ اس اعلامیے کے بعد جیل انتظامیہ نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ کوئی بھی قیدی 6 بجے کے بعد وصول نہیں کیا  جائے گا۔ جیل انتظامیہ کے مطابق نواشریف کی حوالگی قانون کے دائرے میں رہ کر کی جائے گی۔

اس سے قبل نائب صدر مسلم لیگ ن مریم نواز نے اعلان کیا ہے کہ آج اپنے والد اور سابق وزیراعظم نوازشریف کو ایک جلوس کی شکل میں جیل رخصت کریں گے، مریم نواز نے جلوس کی قیادت خود کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ والد کا جیل جانا ایک قومی مقصد ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف آج اپنی مدت ضمانت ختم ہونے پر واپس جیل جائیں گے۔ اس موقع پر ان کی صاحبزادی مریم نواز جو کہ کافی عرصے سے خاموش تھیں نے ٹویٹر پر اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جتنا کٹھن فیصلہ ایک باپ کا بیٹی کا ہاتھ تھامے جیل جانے کا تھا، اتنا ہی کٹھن ایک بیٹی کا اپنے محبوب والد کو جیل چھوڑ کر آنا ہے۔ مگر میں جاؤں گی۔ مریم نواز نے اپنے والے کے جیل جانے کو قومی مقصد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کیونکہ مقصد قومی ہے اور باپ بیٹی کے رشتوں سے کہیں بڑا ہے۔ قومی مقاصد قربانی مانگتے ہیں۔ کل انشاءاللہ میں کارکنوں کے ساتھ ہوں گی۔

مریم نواز آج نوازشریف کو رخصت کریں گی، والد کا جیل جانا قومی مقصد قرار

مسلم لیگ ن کے اعلامیے کے مطابق سابق وزیراعظم کا جلوس کی شکل میں آج افطاری کے بعد کوٹ لکھپت جیل حکم کے حوالے کر دیا جائے گا۔

نوازشریف کو جیل چھوڑ نے جانے والے جلوس کا روٹ بھی طے کر دیا گیا ہے جو جاتی امرا سے شروع ہو کر  اڈا پلاٹ، رنگ روڈ سےہوتا ہوا کوٹ لکھپت جیل تک جائے گا۔ نوازشریف کو جیل لے جانے والے روٹ پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے۔

جیل روانگی سے قبل گزشتہ روز نوازشریف نے لاہور میں داتا دربار پر حاضری بھی دی اور دعا کی۔ نوازشریف نے اس موقع پر کہا کہ جیل اور قید عوام کے ساتھ میرا رشتہ نہیں توڑ سکتے۔

یاد رہے کہ نواز شریف نے سپریم کورٹ  میں ضمانت میں توسیع اور بیرون ملک علاج کی درخواست دی تھی لیکن عدالت نے مزید ضمانت دینے اور ملک سے باہر جانے کی استدعا مسترد کردی تھی۔نواز شریف کی خواہش تھی کہ انہیں علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دی جائے جو کہ نہیں مل سکی۔ تاہم آج انہیں واپس جیل جانا ہے۔