چائنہ تو پھر چائنہ ہے، گوگل کی پابندی ردی کی ٹوکری میں، ہوآوے اپنا آپریٹنگ سسٹم لے آیا

ویب ڈیسک – دنیا کی تیسری بڑی موبائل فون بنانے والی کمپنی کو گذشتہ روز اس وقت شدید دھچکا لگا جب دنیا کی سب سے بڑی سرچ انجن کمپنی گوگل نے ہوآوے سے تمام کاروباری تعلقات توڑتے ہوئے اپنا آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ ہوآوے کو دینے سے انکار کر دیا۔  گوگل کی دیکھا دیکھی موبائل پروسیسر بنانے والی کمپنی انٹیل اور کووالکم نے بھی ہوآوے کے ساتھ کاروباری روابط منقطع کر لئے۔ تاہم  اب ہوآوے نے گوگل کے آپریٹنگ سسٹم کا توڑ تلاش کر لیا ہے اور اپنا آپریٹنگ سسٹم ’’ ہانگ مینگ‘‘ فوری طور پر متعارف کروا دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ہوآوے کی جانب سے آپریٹنگ سسٹم ’’ ہانگ مینگ‘‘ متعارف کر وادیا گیا ہے۔ آئندہ ہوآوے کے تمام سیٹوں میں یہی آپریٹنگ سسٹم آئے گا۔ چینی میڈیا کے مطابق ہوآوے نے امریکہ کی جانب سے ممکنہ طور پر اس پر پابندیوں کو 2012 میں ہی بھانپ لیا تھا اور ہوآوے نے اسی سال اپنے آپریٹنگ سسٹم پر کام شروع کر دیا تھا۔ ہوآوے کے سنئیر عہدیدار کے مطابق ہم نے محسوس کر لیا تھا کہ گوگل کسی بھی وقت ہم سے اینڈرائیڈ کے حقوق چھین سکتا ہے اس لئے ہم نے اپنے آپریٹنگ سسٹم پر کام شروع کر دیا تھا۔

ہوآوے نے 7 سال تک ’’ ہانگ مینگ‘‘ کو پوشیدہ رکھا اور خاموشی سے اس پر کام کرتا رہا، اس پراجیکٹ پر کام کرنے کے لئے موبائل کمپنی نے مشہور زمانہ نوکیا کمپنی کے انجینئیرز کو ہائر کر رکھا تھا جو کہ طویل عرصے تک اس خفیہ پراجیکٹ پر کام کرتے رہے۔

ہوآوے موبائل رکھنے والوں کیلئے مصیبت کھڑی ہو گئی، گوگل نے ہوآوے کیساتھ کاروبار ختم کر دیا، انڈرائڈ سسٹم دینے سے بھی انکار

یاد رہے کہ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن اور آپریٹنگ سسٹم انڈرائڈ کے مالک گوگل نے ہوآوے کے ساتھ تمام کاروباری تعلقات ختم کرتے ہوئے اسے فوری طور پر موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ کی سپلائی بند کر دی ہے۔

ٹیکنالوجی کی دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی چائنہ کی موبائل اور لیپ ٹاپ بنانے والی کمپنی ہوآوے کے امریکہ میں شدید مشکلات کھڑی ہو گئی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن اور ہر دلعزیز موبائل آپریٹنگ سسٹم اینڈرائیڈ  بنانے والی کمپنی گوگل نے ہوآوے ہر قسم کی سروسز فوری طو رپر معطل کر دی ہیں۔ ہوآوے کے موبائل فونز اب اینڈرائڈ سسٹم استعمال نہیں کر سکیں گے اس کے علاوہ جی میل اور گوگل پلے کی سروسز بھی معطل کر دی گئی ہیں۔ گوگل نے یہ ایک انتہائی اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کئے گئے ایک ایگزیکٹو آرڈر کےبعد جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی کمپنیاں اب کسی غیر ملکی کمپنی سے ٹیلی کام پارٹس کی تجارت نہیں کر سکیں گی۔ اس لسٹ میں سب سے پہلے ہوآوے کو ڈالا گیا ہے۔

گوگل کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کمپیوٹر پارٹس بنانے والی کمپنی انٹیل اور کوالکم نے بھی ہواْوے سے کاروباری روابط توڑ لئے ہیں۔

ہوآوے نے بہت کم وقت میں امریکی موبائل مارکیٹ میں جگہ بنا لی تھی اور امریکہ میں ہوآوے نے ایپل کو بھی پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ ہوآوے اس وقت دنیا کی تیسری بڑی اور چائنہ کی سب سے بڑی موبائل کمپنی ہے۔

گوگل نے اپنے ایک ٹویٹ میں  کہا ہے کہ فی الحال ہوآوے کے موجودہ صارفیں ان پابندیوں کی زد میں نہیں ہوں گے۔