چئیرمین نیب کے معاملے پر یو ٹرن، ن لیگ کا جسٹس(ر) جاویداقبال کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

ویب ڈیسک ۔ نیب نے بہت سے لوگوں کے خلاف کیس کئے اور کئی لوگوں کو گرفتار کیا، ایک سابق آرمی آفیسر نے نیب کے رویے سے تنگ آکر خودکشی بھی کی۔ دوسروں کو پھنسانے والا اب خود پھنس گیا ہے۔ لیک ویڈیوز سکینڈل کے بعد مسلم لیگ ن نے یوٹرن لیتے ہوئے چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کر دیا ہے اور ساتھ ہی چئیرمین کے استعفے کا بھی مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما ملک احمد خان نے مبینہ ویڈیوز لیک ہونے کے معامے پر چئیرمین نیب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے اور ان کے خلاف لاہور ہائی کورت میں جانے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا  نیب قانون کا غلط استعمال کر رہا ہے، نیب نوٹسز لوگوں کو خودکشی کرنے پر مجبور کررہے ہیں، نیب لوگوں کے گھروں کے محاصرے کر لیتا ہے، جب نیب سے پوچھتے ہیں کن وجوہات کی بنا پر گرفتار کرتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ دستاویزات خفیہ ہیں، نیب ہمیں گرفتاری کی وجوہات بتانے پر بھی تیار نہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیب اور تحریک انصاف کا گٹھ جوڑ ہے، چئیرمین نیب نے خود کہا کہ اگر حکومتی اراکین کے خلاف ایکشن لین تو حکومت دس منٹ میں گر جائے۔ ملک احمد خان نے کہا کہ کیا نیب قانون سے بالا تر ہے؟ انہوں نے کہا لیک ویڈیوز کے معاملے پر چئیرمین نیب اخلاقی طور پر اس عہدے کے اہل نہیں رہے وہ فوری مستعفی ہو جائیں ہم ان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کریں گے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے لندن سے جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ مسلم لیگ ن چئیرمین نیب کے معاملے میں بالکل غیر جانبدار رہے گی۔