چئیرمین نیب ایسا انسان ہوگا؟ کس نے سو چا تھا،ویڈیو سکینڈل کی مرکزی کردار طیبہ فاروق کی نئی ویڈیو منظر عام پر

ویب ڈیسک ۔ چئیرمین نیب کے ویڈیو سکینڈل کی بازگشت ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی میڈیا پر اب تک صرف نیب اور چئیرمین نیب کا موقف چلایا جا رہا ہے۔ لیکن ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون طیبہ فاروق کا موقف کئی نہیں جاننا چاہ رہا یا اسے میڈیا پر آنے نہیں دیا جا رہا۔

تاہم اب طیبہ فاروق کا ایک ویڈیو بیان منظر عام پر آیا ہے جس میں وہ اپنی کہانی سنارہی ہیں اور انہوں نے چئیرمین نیب کے کالے کرتوتوں پر سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ طیببہ فاروق نے بتایا ہے کہ انہوں نے جو ویڈیو مواد لیک کیا ہے وہ کچھ بھی نہیں ان کے پاس اس سے بڑھ کر بھی چئیرمین نیب کے کالے کرتوتوں کی داستان موجود ہے۔

اپنے ویڈیو میں طیبہ فاروق کا کہنا تھا کہ میں چئیرمین نیب سے کہا کہ کچھ خیال کریں میں شادی شدہ ہوں جس پر جسٹس (ر) جاوید اقبال غصے میں آگئے اور کہا کہ تم جانتی ہو کس سے بات کر رہی ہو؟ میں تمہیں اٹھوا کر ایسی جگہ پھینکواوٴں گا کہ تم کبھی واپیس نہیں آسکوگی۔  طیبہ فاروق نے انکشاف کیا کہ جس دن میں نے ویڈیو لیک کی اسی دن مجھ پر اور میرے خاوند پر 21 مقدمے کر دیئے گئے۔

انہوں نے اپنی ویڈیو میں یہ بھی بتایا کہ چئیرمین نیب کبھی انہیں اپنے فلیٹ پر بلاتے اور کبھی اپنے آفس میں جنسی ذیادتی کا نشانہ بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ طیبہ فاروق نے کہا کہ میرا چئیرمین نیب سے فرینڈلی ہونے کا مقصد ان کی ویڈیوز بنانا اور اس درندے کو بے نقاب کرنا تھا۔ اگر میں فرینڈلی نہ ہوتی تو میں یہ ثبوت اکٹھنے کرنے میں کبھی کامیاب نہ ہوتی۔

طیبہ فاروق نے کہا کہ جب مجھے گرفتار کر کے لاہور لایا گیا تو وہاں موجود مرد اہلکاروں سے کہا گیا کہ اس کی تلاشی لی جائے انہوں نے کہا کیا میں اس قوم کی بیٹی نہیں؟ میرے ساتھ ایسا ظلم کیوں کیا گیا؟ طیبہ فاروق نے وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مجھے انصاف دیا جائے اور میری جان کو خطرہ ہے میری حفاظت بھی کی جائے۔

 t