گائے کا گوشت لیجانے کا الزام، خاتون کو بھی نہ بخشا، انتہا پسند ہندووٴں نے مسلمان جوڑے پر ظلم کی انتہا کر دی

ویب ڈیسک ۔ بھارت میں مودی سرکار کو دربارہ آئے ابھی دو دن ہی ہوئے ہیں اور مسلمانوں پر مظالم کے نئے پہاڑ ٹوٹنے لگ گئے ہیں۔ تازہ ترین واقعہ پیش آیا بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے  ضلع سیونی میں جہاں مسلمان مرد اور خاتون کو گائے کا گوشت لے جانے کے الزام میں بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے  ضلع سیونی میں بدنام زمانہ ہندو دہشتگرد  مجرم شبھم بگھیل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی جس میں وہ اور اس کے ساتھ ایک مسلمان مرد اور خاتون کو ڈنڈوں سے بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ جس وقت ان دونوں پر یہ ظلم کیا جا رہا تھا آس پاس عوام کی ایک بڑی تعداد تماشائی بنی کھڑی رہی۔

ہندو انتہاپسندوں نے خاتون کا بھی لحاظ نہ کیا اور مرد کے ساتھ ساتھ مسلمان خاتون بھی جوتوں سے مار مار کر برا حال کر دیا۔ ہندووٴں نے نہ صرف ان دونوں کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ان سے اپنے بھگوان رام کے نعرے جے شری رام بھی لگانے پر مجبور کرتے رہے۔

’انڈیا ٹوڈے‘ سے تعلق رکھنے والے بھارتی صحافی ’ہیمندر شرما‘ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جو وڈیو شیئر کی اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ گاڑی کا ڈرائیورمسلسل شری رام سینا کے غنڈوں سے مظلوموں کو چھوڑنے کی درخواست کررہا ہے مگر انہوں نے کوئی بات نہیں سنی اور بھیانک مظالم ڈھاتے رہے۔

مسلمان جوڑے پر ظلم کرنے والے مجرم شبھم بگھیل کو اس سے پہلے بھی مسلمانوں پرگائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں ظلم کرنے پر پولیس نے ضلع بدر کر دیا ہوا تھا، تاہم سوشل میڈیا پر اس کی تازہ ویڈیو سے پتہ چلتا ہے کہ مودی سرکاری کے واپس حکومت میں آنے سے وہ بھی واپس آچکا ہے۔

یاد رہے کہ بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کا یہ پہلے واقعہ نہیں ہے اس سے قبل بھی کئی مسلمانوں کو گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے۔ اب جبکہ بھارت میں بی جے پی کی حکومت ایک بار پھر آچکی ہے تو وہاں بسنے والے مسلمان شدید عدم تحفظ کا شکار ہو گئے ہیں۔

ویڈیو کے لئے یہاں کلک کریں