1992میں بھی آصف زرداری جیل میں تھے، کرکٹ دیوانوں نے ایک اور دلچسپ مماثلت ڈھونڈ لی

ویب ڈیسک – ورلڈکپ کا سیزن اپنے زور شور سے جاری ہے اور کرکٹ دیوانے ہر نئے آنے والے حالات کو پاکستان 1992 میں ورلڈکہ جیتنے والی ٹیم کی صورتحال سے تشبیہہ دے کر خود کو ٹیم کے جیتنے کی ایک امید دے دیتے ہیں۔ جیسا کہ 92 میں پاکستان پہلا میچ ویسٹ انڈیز سے ہارا تھا اور پاکستان دوسرا میچ جیتا جبکہ پاکستان کا تیسرا میچ بارش کی نظر ہو گیا تھا۔ اس بار ورلڈکپ 2019 میں ایسا ہی کچھ ہو رہا جس میں تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔،

اب کرکٹ کے متوالوں نے 1992 کے ورلڈکپ اور2019 کے ورلڈکپ میں ایک اور مماثلت ڈھونڈ لی ہے اور وہ ہے سابق صدر آصف علی زرداری جو 1992 میں بھی جیل میں تھے اور اب 2019 میں بھی جیل میں جا چکے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس نئی مماثلت کے خوب چرچے ہیں اور کرکٹ شائقین کو لگ رہا ہے کہ تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرائے گی اور پاکستان یہ ورلڈکپ جیت جائے گا۔ فرق صرف یہ ہے کہ 92 میں عمران خان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے جبکہ اب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت کی درخواست رد ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو نے پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین آصف علی زرداری کو میگا منی لانڈرنگ کیس اور جعلی بنک اکاوٴنٹس کیس میں گرفتار کر لیا تھا۔  جس کے بعد آج انہیں عدالت میں پیش کر کے ان کا 10 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔