تحریک انصاف حکومت کا 7012 ارب روپے کا بجٹ آگیا، چینی، تیل، گھی، سی این جی اور گاڑیاں مہنگی

ویب ڈیسک – تحریک انصاف حکومت نے مالی سال 20-2019 کا اپنا پہلا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا۔ وفاقی وزیر برائے مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے بجٹ پیش کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان بھی قومی اسمبلی میں موجود تھے۔ وزیراعظم نے اپنے سمیت پوری کابینہ کی تنخواہوں میں 10 فیصد تک کٹوتی کا اعلان کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے مالی سال 20-2019 کا 7012 ارب روپے مالیت حجم کا بجٹ پیش کیا۔  اس دوران اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی کی ۔مالی بجٹ میں بچت مہم جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اپنی اور کابینہ کی تنخواہوں میں رضاکارانہ طور پر 10 فیصد تک کٹوتی کا اعلان  کیا ہے۔ جبکہ بجٹ میں دیگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو بنیادی تنخواہ پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کا اعلان کیا ہے۔

حماد اظہر نے بجٹ تقریر میں کہا کہ  کہ بجٹ خسارہ 3 ہزار 137 ارب روپے ہے۔ بجٹ کا تخمینہ 7022 ارب روپے رکھا گیا ہے۔ دفاعی بجٹ 1150 ارب روپے پر برقرار رہے گا۔ بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5 ہزار 555 ارب روپے رکھا گیا ہے، جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا تناسب 12 اعشاریہ 6 فیصد رکھا گیا ہے۔

حکومت نے چینی، تیل اور گھی مہنگا کر دیا۔ چینی پرسیلزٹیکس 8سےبڑھاکر 13 فیصدکردیاگیا جس سے  چینی کی قیمت ساڑھے 3 روپےفی کلوبڑھےگی، خوردنی تیل اور گھی پر بھی 14فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے، سونے، چاندی، ہیرے کے زیورات پرسیلزٹیکس بڑھانےکافیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے بجٹ 20-2019 میں  سگریٹ میں کی ایف ای ڈی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ سگریٹ کی فی ڈبی 10 سے 14 روپے مہنگی ہو جائے گی۔ سگریٹ پینے والوں سے 147 ارب روپے کی ایکسائز ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔ ایک ہزار سگریٹ پر پہلے ٹیکس 4 ہزار 500 روپے تھا جو اب 5 ہزار 200 روپے کر دیا گیا ہے۔

بجٹ میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کم ازکم تنخواہ 17 ہزار 500 مقرر کرتے ہوئے بتایا کہ اضافہ 2017 سے جاری تنخواہ پر ہوگا۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمیں کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گریڈ 17 تک کے ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، گریڈ17سے21 تک کےملازمیں کیلئےپانچ فیصد اضافہ کر دیا گیا۔

نئے بجٹ میں گاڑیاں خریدنے والوں کے لئے کوئی اچھی خبر نہیں کیونکہ 1000 سی سی سے 2  ہزار سی سی تک گاڑیوں پر پانچ فیصد جب کہ 2 ہزار سی سی سے زائد کی گاڑی پر ڈیوٹی ساڑھے سات فیصد عائد کر دی گئی ہے۔

بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا اور خوب شور مچایا۔ اپوزیشن نے بجٹ  کی کاپیاں پھاڑ کر ہوا میں لہراتے رہے۔ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف خوب نعرے بازی کی اور وزیراعظم کے خلاف نعرے لگائے جس میں کہا گیا کہ ’’مک گیا تو شو نیازی، گو نیازی گو‘‘ کے بھی نعرے لگائے۔ اپوزیشن نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر لکھا تھا کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کا بجٹ ہے۔