ایران پر امریکی حملہ، ٹرمپ نے آخری منٹوں میں فیصلہ واپس لے لیا

ویب ڈیسک ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشدگی اس وقت اپنے عروج پر ہے، اس کشیدگی سے پورے خطے کا امن داوٴ پر لگا چکا ہے۔ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے بعد امریکہ اس وقت غصے میں بپھرا ہوا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی جانب سے ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی افواج کو امریکی ڈرون گرانے کے جرم میں ایران پر فوری حملے کا حکم دے دیا جو کہ آخری لمحات میں واپس ہو گیا اور ایران اور اس کا قریبی خطہ بڑی تباہی سے بچ گیا۔

امریکی جریدے نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ  صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد امریکی افواج نے اپنی تیاریاں مکمل کر لی تھیں اور اس کے لئے آبنائے ہرمز میں موجود امریکہ بحری بیڑے نے پوزیشنیں سنبھال لی تھی اور مزائیلوں سے لیس امریکی جنگی طیاروں  نے پروازیں بھی شروع کر دی تھیں تاہم آخری 10 منٹ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا فیصلہ واپس لیتے ہوئے افواج کو ایران پر حملے سے روک دیا۔

 جریدے نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکہ کے ممکنہ حملے میں ایران کے ریڈار اور میزائل بیٹریزکو نشانہ بنانے کا حکم دیا گیا تھا۔ ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے بعد امریکی صدر نے اپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ ایران نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ جس کے بعد دنیا بھر کی نظریں ایران اور امریکہ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اگلے قدم پر لگیں تھیں۔