جج ویڈیو سکینڈل، چیف جسٹس پاکستان بھی میدان میں آگئے، اسلام آباد میں اہم ملاقاتیں

ویب ڈیسک – ن لیگی رہنماوٴں کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ن لیگ رویہ نسبتاً کافی جارح ہو گیا ہے۔ جبکہ عدلیہ جیسے ادارے کے کردار پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ گو کہ ارشد ملک کی جانب سے ویڈیو کی تردید کی گئی ہے لیکن بہر حال ملک میں اس حوالے سے اضطراب پایا جا رہا ہے۔ جج ویڈیو سکینڈل حوالے سے گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق کی ملاقات ہوئی ہے۔

دونوں ججز کے مابین ملاقات 40منٹ تک جاری رہی۔ رجسٹرار سپریم کورٹ بھی چیف جسٹس چیمبر میں موجود ہیں۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ملاقات ہوئی تھی ، جس میں قانونی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق احتساب عدالت جج ارشد ملک اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے۔

اعلیٰ عدلیہ کے دو بڑے ججوں کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد خیال کیا جا رہے کہ اب یہ معاملہ بہت جلد اپنے منتقی انجام کو پہنچ جائے گا۔ دوسری طرف مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس ایسی اور بھی کئی ویڈیوز ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ حکومت کا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں عدلیہ خود ہی اس معاملے کا نوٹس لے۔