جج کو ہٹانے کے باوجود نوازشریف کو رہائی نہیں مل سکتی، ن لیگی کی امیدوں پر پانی پھر گیا

ویب ڈیسک ۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو سامنے آنے پر انہیں عہدے سے ہٹاتے ہوئے کام کرنے سے روک دیا تھاجس کے بعد مسلم لیگ ن کی قیادت کی جانب سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا کہ چونکہ نوازشریف کو سزا دینے والا جج معطل کیا جا چکا ہے لہذا نوازشریف کی سزا کو بھی فوری طور پر معطل کر کے انہیں رہا کر دیا جائے۔

تاہم  وزیر قانون فروغ نسیم نے ایک پریس کانفرنس کے دوران لیگی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ  حکومت قانون اور انصاف کے ساتھ کھڑی ہے، نہ تو کسی کو رعایت دے رہے ہیں اور نہ ہی زیادتی کررہےہیں ۔ انہوں نے کہا کہ  جب تک ہائی کورٹ شاخسانے کا کوئی فیصلہ نہیں کرتی نوازشریف کی رہائی ممکن نہیں۔ بیرسٹر فروغ نسیم نے واضح الفاظ میں کہا کہ جج کو کام سے روکنے پر ان کے دیے فیصلوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

وزارت قانون کی جانب سے یہ بیان آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ اگر نوازشریف کو عدالت سے کوئی ریلیف مل بھی سکتا ہے تو اس کی فوری امید نہیں ہے۔ نوازشریف کو اپنی سزا کے خلاف اپیل دائر کرنے کے بعد احتساب عدالت کے جج کو غلط ثابت کرنا ہو گا تب ہی ان کی سزا کو معطل کیا جا سکتا ہے۔