ریکوڈک کیس: پاکستان پر 5 ارب 97 کروڑ ڈالر جرمانہ عائد، وزیراعظم کا کمیشن بنانے کا فیصلہ

ویب ڈیسک ۔ سابقہ حکومتوں کی نا اہلی اور سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے متنازع فیصلوں کی بدولت پاکستان عالمی بنک میں ریکوڈک مائننگ کا کیس ہار گیا اور عالمی عدالت نے پاکستان پر 5 ارب اور 97 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔  انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ آف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کی سزا کے طور پر پاکستان پر 4 ارب 10 کروڑ  روپے جرمانہ عائد کردیا جب کہ ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود بھی  ادا کرنا ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی بنک کے ثالث نے پاکستان پر ٹیتھیان کمپنی کے ساتھ ریکوڈک مائنگ کا معاہدہ غیر مناسب انداز میں منسوخ کرنے پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے جس انداز میں مائننگ کمپنی کے ساتھ معاہدے کو ختم کیا وہ انتہائی نامناسب تھا۔  اس معاہدے کی منسوخی سے کمپنی کو بھاری مالی نقصان ہوا۔ پاکستان کو 58 لاکھ 40 ہزار ڈالر ہرجانہ دینا پڑے گا جس میں17لاکھ ڈالر سود بھی شامل ہے جبکہ 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر قانونی اخراجات کی مد میں چلی اور کینیڈا کی مائننگ کمپنی ٹیتھیان کو اداکرنا ہوں گے۔

ادھر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کو جرمانے کے معاملے پر گہرے دکھ کا اظہارے کیا اور ساتھ ہی ایک کمیشن بنانے کی ہدایت کردی، کمیشن تحقیقات کرے گا یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور پاکستان کو جرمانہ کیوں ہوا، کمیشن ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا تعین بھی کرے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے وزارت قانون کو عالمی بنک میں اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کی ہدایت بھی کر دی۔

یاد رہے کہ صوبہ بلوچستان میں چاغی کے علاقے میں ریکودک کے مقام پر سونے اور تانبے کے بڑے ذخائر کی دریافت کے بعد کینیڈا اور چلی کی کمپنیوں ٹیتھیان کو علاقے میں کھدائی اور سونا نکالنے کا منصوبہ دیا گیا تھا ۔ جسے 2011 میں اس وقت کے چیف جسٹس پاکستان افتخار احمد چوہدری نے از خود نوٹس لیتے ہوئے ٹیتھیان کمپنی کے معاہدے کو منسوخ کر دیا تھا۔ جس کے بعد کمپنی اپنے نقصان کے ازالے کے لئے عالمی بنک چلی گئی تھی۔