کیا انگلینڈ کو ورلڈکپ زبردستی جتوایا گیا؟ اوور تھرو کے معاملے پر مایہ ناز ایمپائر سائمن ٹوفل نے اہم نقطہ اٹھا دیا

ویب ڈیسک – گزشتہ روز انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ایک سنسنی خیز مقابلے کے بعد سپر اوور میں شکست دے کر پہلی مرتبہ ورلڈکپ کا ٹائٹل اپنے نام کر لیا۔ انگلینڈ میں کی جیت میں ایک اوور تھرو کے چوکے نے اہم کردار ادا کیا جسے اب ایمپائرنگ کے ایک متنازع فیصلے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

پانچ دفعہ کے ایمپائر آف دی ائیر کا ایوارڈ جیتنے والے آسٹریلیا کے سابق ایمپائر سائمن ٹوفل نے انگلینڈ کو اوور تھرو کی مد میں ملنے والے 6 رنز پر سوال اٹھا دیا ہے۔ سائمن ٹوفل کے مطابق انگلینڈ کو ایک اضافی رن دیا گیا۔ اصل میں انگلینڈ کو 5 رنز ملنے چاہئے تھے مگر ایمپائر کے ایک غلط فیصلے نے نہ صرف انگلینڈ کو 1 اضافی رن دیا بلکہ نیوزی لینڈ کو ایک جیتا ہوا ورلڈکپ ہروا دیا۔

سائمن ٹوفل کے مطابق فیلڈ امپائر نے یہاں پر انگلینڈ کو چھ رنز دے کر واضح غلطی کی حالانکہ یہاں پانچ رنز ملنے چاہیے تھے کیونکہ جب گیند پھینکی کی گئی تو بیٹسمین نے ابھی اپنا دوسرا رنز مکمل نہیں کیا تھا۔ سائمن کا کہنا ہے کہ جس وقت گیند بن سٹوک کے بلے سے ٹکرا کر باوٴنڈری کی طرف گئی اس وقت تک دوسرے اینڈ پر موجود عادل رشیداپنی کریز تک نہیں پہنچے تھے۔ جس کا مطلب ہوا کہ انہوں نے اپنا دوسرا رن اس وقت مکمل کیا جب گیند باوٴنڈری کی طرف جا رہی تھی۔ کرکٹ کے قوانین کو مد نظر رکھا جائے تو انگلینڈ 5 رنز کا حق دار تھا۔ لیکن فیلڈ پر موجود ایمپائر دھرما سینا نے بڑی غلطی کرتے ہوئے انگلینڈ کو ایک اضافی رن دے دیا جس نے میچ کا فیصلہ انگلینڈ کے حق میں دے دیا۔

دھرما سینا کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر شدید بحث جاری ہے اور صارف کی بڑی تعداد نیوزی لینڈ کو جیت کا اصل حق دار قرار دے رہی ہے۔