پاکستان جیت گیا، عالمی عدالت نے کلبھوشن کو رہا کرنے کی بھارتی اپیل مسترد کردی

ہیگ – عالمی انصاف عدالت نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو رہا کرنے کی  بھارتی درخواست مسترد کردی ساتھ ہی پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر نظر ثانی کا کہہ دیا۔ عالمی عدالت نے کلبھوش یادیو کا مستقبل پاکستانی عدالتوں پر چھوڑ دیا۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے جج عبد القوی احمد یوسف نے کلبھوشن یادیو کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ جج نے کہا کہ  کہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی کا حق حاصل ہے،پاکستان کلبھوشن یادیو کو دی جانے والی سزائے موت پر نظر ثانی کرے۔ جج نے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے رکن ہیں اور دونوں فریقین  کلبھوشن یادیو کے بھارتی شہری ہونے پر متفق رہے۔

جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلے میں کہا کہ پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن یادیو نے ملک میں جاسوسی اور دہشتگردی کی جبکہ جعلی نام پر پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتا رہا۔ پاکستان کا موقف تھا کہ اںڈیا کلبھوشن یادیو کی شہریت کا ثبوت دینے میں ناکام رہا۔

یاد رہے کہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں نے سال 2016 میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے حاضر سروس افسر کمانڈر کلبھوشن یادیو کو صوبہ بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔ کلبھوشن یادیو بھارتی نیوی کا کمیشینڈ آفیسر بھی ہے۔ جنگ عظیم دوئم کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ کسی افسر لیول کے جاسوس کو رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا تھا۔

کلبھوشن یادیو ایرانی پاسپورٹ پر ایک مسلمان تاجر حسین مبارک کے نام سے کارووائیاں کر رہا تھا۔ پاکستانی ایجنسیوں نے طویل عرصے تک کلبھوشن یادیو کی ریکی کر کے اسے گرفتار کیا تھا۔ کلبھوشن یادیو پاکستان میں  دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں ملوث تھا۔ کلبھوشن نے پاکستانی ایجنسیوں کی تحویل میں اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا کہ وہ بھارتی ایجنسی را کا افسر ہے اور پاکستان میں انارکی اور دہشت گرد کارروائیوں کے مشن پر تھا۔