جب میری بیٹی کینسر سے لڑ رہی تھی، انضمام الحق نے علاج کیلئے پیسوں کا بندبست کیا: کرکٹر آصف علی

ویب ڈیسک – پاکستان کے جارح مزاج بلے باز آصف علی نے سابق بیٹنگ لیجنڈ اور چیف سلیکٹر انضمام الحق کے حوالے سے بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب آصف علی کی بیٹی کینسر کی چوتھی سٹیج پر تھی اس وقت چیف سلیکٹر انضمام الحق نے ان  کی بیٹی کے علاج کے لئے پیسوں کا بندو بست کیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف سلیکٹر انضمام الحق کے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد پاکستان کے مایہ ناز بلے باز آصف علی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے خیالات شئیر کرتے ہوئے کہا کہ  جب انضمام بھائی کو میری بیٹی کے سٹیج 4 کینسر میں مبتلا ہونے کے بارے میں علم ہو ا تو وہ فور ی طور پر پی سی بی گئے اور وہاں بات کرکے پیسوں کا انتظام کروایا،وہ عظیم کھلاڑی ہیں جن کے بارے میں الفا ظ نہیں ہیں اورمیدان کے اندر اور باہر حقیقی رول ماڈل ہیں۔

 

یاد رہے کہ قومی ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق نے قذافی سٹیڈیم لاہور میں ایک اہم  پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلیکشن کمیٹی سے الگ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں عہدے سے استعفیٰ دیتا ہوں اور 30 جولائی کے بعد مزید ذمہ داریاں نہیں نبھاؤں گا جب کہ میں اپنی ٹیم کا شکریہ اداکرتا ہوں، میں نے اپنے سلیکشن کے تین سال مکمل کیے، میں کرکٹر ہوں کرکٹ میرا پیشہ اور میری محبت ہے، سلیکشن کے علاوہ بورڈ کوئی ذمہ داری دے گا اس کے لیے تیار ہوں۔

انضمام الحق کا کہنا تھا کہ جو میں کر سکتا تھا وہ میں نے کیا، ورلڈ کپ میں ٹیم کی پرفارمنس اچھی رہی ہے، فائنل کھیلنے والی دونوں ٹیموں کو پاکستان نے ہرایا، ہماری ٹیم بہت اچھی تھی ، قسمت نے ساتھ نہیں دیا، ٹورنامنٹ کے آخر میں وکٹیں مشکل ہوگئی تھیں، ماہرین نے پاکستان کو ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیموں میں شامل کیا تھا۔

اپنے بھتیجے امام الحق کی قومی ٹیم میں شمولیت کے سوال پر انضمام الحق نے کہا کہ  کھلاڑی تعلقات سے نہیں کارکردگی سے سلیکٹ ہوتا ہے اور امام الحق نے اچھی کارکردگی دکھائی۔ انہوں نے کہا کہ امام الحق انڈر 19 کی ٹیم میں 2012 سے تھا اور وہ  انڈر 19 کا نائب کپتان بھی تھا، اس وقت میں چیف سلیکٹر نہیں تھا جب کہ شعیب ملک نے 19 سال کرکٹ کھیلی ہے ، وہ اچھا کھلاڑی ہے لیکن ورلڈکپ میں پرفارم نہیں کرسکا۔