ن لیگ کی خوشیاں ختم، ارشد ملک ویڈیو کی فرانزک رپورٹ آئی ہی نہیں: پنجاب حکومت کی تردید

ویب ڈیسک۔ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو فرانزک رپورٹ کی خبر غلط ثابت ہو گئی، مسلم لیگ ن کی خوشیاں ختم، ویڈیو کی کوئی فرانزک رپورٹ آئی ہی نہیں تو ویڈیو اصلی کیسے ثابت ہو گئی؟ حکومت نے تمام خبروں کی تردید کر دی ۔

تفصیلات کے مطابق آج دوپہر کچھ چینلوں نے خبر بریک کی تھی کہ حکومت نے جج ارشد ملک کی ویڈیو کی فرانزک کروائی ہے جس میں ویڈیو اسلی ثابت ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ ن کی صدر مریم نواز نے بھی اس خبر پر رد عمل دیتے ہوئے اسے اپنی فتح قرار دے دیا تھا اور نوازشریف کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ بھی دہرا دیا تھا۔ تاہم حکومت نے ایسی کسی بھی خبر کی تردید کر دی ہے۔

 

پنجاب حکومت کے ترجمان شہباز گل کا کہنا ہے کہ ہباز گل کا کہنا ہے کہ پنجاب فرانزک لیب ایجنسی سے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی۔پنجاب فرانزک لیب کو ویڈیو پر تاحال کوئی مواد موصول نہیں ہوا۔پنجاب فرانزک لیب کی رپورٹ سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں۔

یاد رہے کہ رواں ماہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو چلائی تھی جس میں جج نے انکشاف کیا تھا کہ نوازشریف کو دی جانے والی سزا ان پر دباوٴ کا نتیجہ تھا۔ تاہم جج ارشد ملک نے ویڈیو کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک بیان حلفی جمع کروا دیا تھا۔

اس کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے ارشد ملک کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے سائیڈ لائین کر دیا تھا۔ مسلم لیگ ن ک مطالبہ ہے کہ کیوں کہ جج کی ساکھ متاثر ہو چکی ہے لہذا ان کے کئے گئے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نوازشریف کو رہا کیا جائے۔

یہ کیس اب سپریم کورٹ میں چل رہا ہے اور ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو بنانے والے میاں طارق محمود کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ طارق محمود پر ایف آئی اے کے سائبر ونگ نے غیر قانونی طور پر ویڈیوز بنانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔