مجھے امداد مانگنے سے نفرت شدید ہے، امریکہ سے برابری کے تعلقات چاہتے ہیں: عمران خان

ویب ڈیسک ۔ امریکہ کے دورے پر موجود وزیراعظم عمران خان نے یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے امداد مانگنے سے شدید نفرت ہے۔ میں امریکہ سے امداد نہیں مانگوں گا بلکہ دونوں ممالک کے درمیان برابری کے تعلقات چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں جب سعودی سے عرب سے آیا تو لوگوں نے کہا کہ کیا لے کر آئے ہو؟

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ امداد کسی بھی قوم اور ملک کو ترقی نہیں کرنے دیتی بدقسمتی سے پاکستان ایک طویل عرصے تک صرف امداد پر انحصار کرتا رہا جس نے پاکستان کو ایک ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہمسایوں کے ساتھ ہمارے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، معیشت کو بہتر کرنے کے لیے ہم امن چاہتے ہیں۔ بھارت کیساتھ کچھ زیادہ مسائل ہیں جنہیں مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک میں کشمیر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم نے انڈین وزیراعظم کو کہا ہے کہ اگر آپ ایک قدم بڑھائیں گے تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے۔

عمران خان کا مکمل خطاب دیکھیں

 

امریکی تھنک ٹینکس سے خطاب میں وزیراعظم پاکستان نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان نے 70ہزار جانوں کی قربانی دی ، افغانستان میں امن کے لیے پاکستان نے بھاری قیمت ادا کی، پہلے بھی کہا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں لیکن اس وقت لوگوں کو یہ سمجھ نہیں آرہی تھی اب لوگوں کو آئیڈیا ہوا ہے کہ افغان مسئلے کا حل صرف اور صرف بات چیت میں ہے،افغانستان میں امن کے لیے یہ بہترین وقت ہے۔

انہوں نے کہا کہ  میں نے ایک مافیا کا مقابلہ کیا ہے، سپریم کورٹ میں ان کا کیس چلا جہاں سپریم کورٹ کے جج نے بھی کہا کہ یہ سسلین مافیا ہیں، نواز شریف کو سزا سنانے والے جج کو بلیک میل کیا گیا۔ انہوں نے 30 سال اقتدار میں گزارے، بیوروکریسی، سپریم کورٹ سمیت تمام ادارے میں انہوں نے پنجے گاڑھے ہوئے تھے۔

عمران خان نے کہا کہ  پاکستان میں میڈیا کو پوری آزادی حاصل ہے یہاں تک کے میڈیا بے قابو بھی ہوجاتا ہے، پاکستانا جیسا میڈیا دنیا میں کہیں نہیں۔ انہوں نے کہ ہم ملک میں یکساں نظام لا رہے ہیں، مدارس، سکولوں میں نظام ایک جیسا لا رہے ہیں، مدارس کے بچوں کو بھی وہی تعلیم دیں گے جو سکولوں کے بچوں کو ملتی ہے۔