بیوی پر تشدد، دنیا ٹی وی نے مذق رات کے ڈی جے محسن عباس کو نوکری سے فارغ کر دیا

ویب ڈیسک ۔ ملک کے نامور ٹی وی چینل دنیا نیوز نے مذاق رات کے ڈی جے اور اداکارہ محسن عباس حیدر کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔ دنیا ٹی وی انتظامیہ نے محسن عباس کے خلاف یہ اقدام ان کی اہلیہ کی جانب سے تشدد کے الزامات کے بعد اٹھایا ہے۔ محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے ان کے خلاف گھریلو تشدد کی ایف آئی آر درج کروا رکھی ہے۔

دنیا نیوز کی ویب سائٹ پر جاری کردہ بیان کے مطابقدنیا ٹی وی کی انتظامیہ نے اپنے ناظرین کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے محسن عباس حیدر پر ایف آئی آر کے اندراج کے بعد ان سے اعلان لاتعلقی کیا ہے۔

جب تک محسن عباس حیدر اپنی بے گناہی ثابت نہیں کرتے، وہ دنیا ٹی وی کے معروف پروگرام ”مذاق رات“ کا حصہ نہیں ہونگے۔ فی الحال جو پروگرام نشر کیے جا رہے ہیں، وہ اس ناخوشگوار واقعہ سے قبل ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

اداکار اور گلوکار محسن عباس حیدر کے خلاف 406، 506B کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ مقدمہ ان کی اہلیہ فاطمہ کی مدعیت میں تھانہ ڈیفنس سی میں درج کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نامور اداکار اور گلوکار محسن عباس کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے الزام لگایا ہے کہ محسن عباس ان پر شدید تشدد کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ فیس بک پر اپنی کہانی شئیر کرتے ہوئے فاطمہ بتایا کہ جب وہ حاملہ تھیں اس وقت بھی محسن عباس نے انہیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔

تفصیلات کے مطابق محسن عباس حیدر کی اہلیہ فاطمہ سہیل نے فیس بک پر طویل پوسٹ میں اپنے شوہر محسن عباس کے ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے شوہر نے نہ صرف انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ ذہنی ٹارچر بھی کیا اوراب وہ یہ ظلم برداشت کرتے کرتے تھک گئی ہیں۔

فیس بک پر بیان کردہ اپنی کہانی میں فاطمہ بتاتی ہیں کہ ’’ظلم برداشت کرنا بھی گناہ ہے‘‘، میں فاطمہ ہوں محسن عباس حیدر کی بیوی۔ 26 نومبر 2018 کو مجھے پتہ چلا کہ میرا شوہر مجھے دھوکا دے رہا ہے اور جب میں نے اس بارے میں اس سے بات کی تو بجائے شرمندہ ہونے کے اس نے مجھے مارنا شروع کردیا۔

فاطمہ نے لکھا محسن نے اس بات کا بھی احساس نہیں کیا کہ میں اس وقت حاملہ تھی اورمجھے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، اس نے میرے بال کھینچے، مجھے فرش پر گرادیا، مجھے لاتیں ماریں اور میرے چہرے پر گھونسے بھی مارے اس کے بعد مجھے دیوار میں دے مارا۔ تاہم میں اپنے گھر والوں کے بجائے اپنی دوست کے ساتھ اسپتال گئی کیونکہ میں بہت پریشان تھی۔

انہوں نے کہا کہ میرا الٹرا ساؤنڈ ہوا تو مجھے اس بات کی تسلی ہوئی کہ میرا بچہ محفوظ تھا، میں نہیں جانتی کہ اب اسے سماجی دباؤ کہیں گے یا پھر میری اپنی ہمت، میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنے بچے کی خاطر اس شادی کو پھر ایک موقع دوں گی۔

فاطمہ نے لکھا کہ میں ایک بار پھر محسن کے گھر گئی اور اسے اپنے بچے کی ذمہ داری لینے کو کہا۔ جہاں محسن نے مجھے ایک بار پھر مارنا شروع کر دیا اور بچے کی ذمہ داری لینے سے انکار کر دیا۔

‘مجھے کوئی اندازہ نہیں کہ میں اکیلے اپنے بیٹے کی تربیت کیسےکروں گی، لیکن میں جانتی ہوں اللہ میری مدد کرے گا’.

‘میں نے بہت زبانی اور جسمانی تشدد برداشت کیا، میں طلاق کی دھمکیاں ملنے سے بھی تھک چکی ہوں، لیکن اب بہت ہوگیا’.

دوسری جانب محسن عباس نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہلیہ فاطمہ سہیل کی جانب سے لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔